چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ساتویں عالمی میڈیا سمٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور شعبہ تشہیر کے سربراہ لی شو لے نے شرکت کی اور تقریب سے کلیدی خطاب کیا۔
چینی میڈیا کے مطابق اس موقع پر شرکاء نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے چوتھی عالمی میڈیا سمٹ کے نام ارسال کردہ تہنیتی پیغام کی روشنی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس سمٹ کے اثر و رسوخ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اس دوران مختلف ممالک کے ذرائع ابلاغ کے باہمی تعاون کو مزید وسعت ملی ہے اور روابط زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کی جدت اور ترقی انتہائی فعال مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس نے میڈیا انڈسٹری کے لیے نئے مواقع کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔
تقریب میں اس امر پر زور دیا گیا کہ دنیا بھر کے میڈیا اداروں کو باہمی عملی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہوگا تاکہ بدلتے ہوئے حالات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
ذرائع ابلاغ کے اداروں کو معیاری مواد کی فراہمی میں مسلسل اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ناظرین اور قارئین کو بہترین معلومات فراہم کی جا سکیں۔
ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجی کے ذریعے میڈیا کو مزید بااختیار بنانے کے عمل کو تیز کرنے کی بھی تجاویز پیش کی گئیں۔
مختلف تہذیبوں کے درمیان باہمی تبادلوں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
سمٹ کے دوران اے آئی گورننس کے نظام کو بہتر بنانے میں معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور عملی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
اس جامع وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عالمی سطح پر دانش اور بھرپور توانائی فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔




اپنی رائے دیں