سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی کے اقتباسات جاری کر کے کسی کو مشکل میں ڈالا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی پر انگلی اٹھانا نہیں بلکہ ماضی کے واقعات پر حقائق سامنے لانا تھا۔
عثمان خواجہ نے انسٹاگرام پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ 2018 کے دورہ جنوبی افریقہ کے دوران پیش آنے والے 'سینڈ پیپر گیٹ' اسکینڈل میں پوری ٹیم کو ذمہ دار ٹھہرانا ان کا مقصد نہیں تھا، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملے کو اجتماعی طور پر تسلیم کیا جائے۔
سابق بیٹر نے کہا کہ اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ نے اس وقت پوری ٹیم کی ذمہ داری اپنے سر لے لی تھی اور وہی اصل متاثرین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی انصاف کے متلاشی ہیں تاکہ ٹیم اس تنازع سے مکمل طور پر باہر نکل سکے۔
عثمان خواجہ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے یہ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 2018 میں ہی حقیقت بیان کرنا چاہتے تھے لیکن اس وقت ٹیم کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔
سابق کھلاڑی نے مزید کہا کہ 2021 میں بھی انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے کا سوچا تھا جب آسٹریلوی باؤلرز نے بال ٹیمپرنگ سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا، تاہم اس وقت کے کوچ جس ٹن لین گر سے مشاورت کے بعد انہوں نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ جب وہ 2022 میں دوبارہ ٹیم کا حصہ بنے تو انہیں اس حساس موضوع پر بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔ عثمان خواجہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ ٹیم کے مفاد کو مقدم رکھتے تھے، لیکن اب ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی بات کھل کر رکھنے کے قابل ہیں۔
یاد رہے کہ مارچ 2018 میں کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی کھلاڑیوں کی جانب سے گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا واقعہ پیش آیا تھا جسے 'سینڈ پیپر گیٹ' کا نام دیا گیا۔ اس اسکینڈل کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کپتان اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔




اپنی رائے دیں