امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان نتائج نے امریکا کو تاریخ میں کئی قدم پیچھے دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ملک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار 8 نومبر 2026 کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ انتخابی نتائج کے بعد تیزی سے ترقی کرنے والی امریکی اسٹاک مارکیٹ کو صرف ایک دن میں تین ٹریلین ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
تاہم، امریکی صدر نے قوم کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امریکا پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر واپس آئے گا اور مستقبل میں پہلے سے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ امریکی صدر کی جماعت کو مڈٹرم انتخابات میں جس شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی بنیادی وجوہات میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر عوام کا ردعمل شامل ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ڈیموکریٹس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک رہنما اپنے مخالفین کو مواخذے اور سزاؤں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ڈیموکریٹس کے طرزِ عمل کو اعلیٰ سطح کی بھتہ خوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت متعدد افراد کے خلاف مواخذے کی دھمکیاں بلاجواز اور سیاسی انتقام پر مبنی ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ریپبلکن پارٹی کے حامیوں اور ڈونرز کو محض ان کی سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قانون کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، ڈیموکریٹ رہنماؤں کی جانب سے بے گناہ افراد کو دھمکی آمیز خطوط بھیجے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ان سنگین الزامات کے تناظر میں، امریکی صدر نے محکمہ انصاف کو ڈیموکریٹس کے مبینہ مجرمانہ اقدامات کی فوری اور شفاف تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سیاسی منظرنامے میں مڈٹرم انتخابات کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے قبل ڈانا وائٹ کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔
موجودہ صورتحال میں جہاں معاشی نقصان کے اعداد و شمار پر بحث جاری ہے، وہیں سیاسی حلقوں میں بھی گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ڈیموکریٹس پر لگائے گئے الزامات نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے۔




اپنی رائے دیں