امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی زمینی سپلائی لائنز کو روکنے اور خطے میں ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنے کے لیے ایک نئی ٹاسک فورس 'آئرن گیٹ' کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام ایران کے خلاف پہلے سے جاری سمندری ناکہ بندی کو مزید وسعت دینے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کو پر نے بتایا کہ یہ نئی ٹاسک فورس سمندر میں ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کی کامیابی کو مزید مستحکم کرے گی۔ اس کا ہیڈکوارٹر فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں واقع ہے جہاں سے یہ دیگر امریکی سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر حکمت عملی تیار کرے گی۔
اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد ایران کی جانب سے زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجیز، ممنوعہ مواد اور غیر قانونی مالیاتی ذرائع کی نقل و حمل کو روکنا ہے۔
سابق امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے دفاع برائے مشرق وسطیٰ مائیکل مل رائے نے اس حوالے سے کہا کہ اس فورس کا کردار یہ تعین کرنا ہوگا کہ ہتھیاروں کے نظام کہاں سے آ رہے ہیں اور انہیں کیسے روکا جا سکتا ہے۔
مائیکل مل رائے کے مطابق، اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشیدگی میں اضافے کا حکم دیتے ہیں تو اس نئی ٹاسک فورس کے اہداف بنیادی طور پر اقتصادی اور انفراسٹرکچر پر مرکوز ہوں گے تاکہ تہران کی مالی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔
امریکی سینٹ کام نے ایک بیان میں یہ بھی تصدیق کی ہے کہ خلیج عمان میں ایک تجارتی بحری جہاز 'ایم وی ہودا' کو کارروائی کے دوران غیر فعال کر دیا گیا ہے۔ امریکی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر درستگی کے ساتھ گولہ باری کی جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق جولائی سے اب تک امریکی فورسز نے 147 تجارتی جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا ہے جبکہ پانچ ایسے تجارتی جہازوں کو غیر فعال کیا گیا جنہوں نے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔
دوسری جانب، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع قشم جزیرے اور بندر عباس، جسک اور سریک کے شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قشم جزیرے پر ہونے والے حالیہ حملوں کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے ان کارروائیوں کو 'معمولی' قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اب بھی معاہدے کا خواہشمند ہے اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کا عمل جاری ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکرز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق یہ ٹینکرز آبنائے کے ایک غیر محفوظ حصے سے گزر رہے تھے اور ان کا نیویگیشن سسٹم بند تھا۔ ان ٹینکرز کو شدید نقصان پہنچا اور بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد وہ رک گئے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی عسکری حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات ایران کی جانب سے خطے میں ہتھیاروں کی ترسیل اور غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔





اپنی رائے دیں