ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔
ترک پارلیمان کے اس اقدام سے تینوں ممالک کے مابین دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو باضابطہ قانونی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 600 رکنی پارلیمنٹ میں رائے شماری کے دوران مجموعی طور پر 398 ارکان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا۔
اس اہم ووٹنگ کے دوران 279 ارکان نے مکہ دفاعی معاہدے کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ 119 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔
پارلیمانی توثیق کے بعد نافذ العمل ہونے والے اس معاہدے کی بنیادی شق کے تحت کسی بھی ایک فریق پر ہونے والا حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ترک پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین نے اس حوالے سے وضاحت کی کہ یہ سہ فریقی اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اتحاد کا بنیادی مقصد کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔
ترکیہ کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیا آلتونیالدز کا کہنا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا اس کا اصل ہدف ہے۔
ضیا آلتونیالدز نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان سے منظوری ملنے کے بعد اب معاہدے پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ قانونی اور انتظامی مراحل اہم ہوں گے۔
مکہ مکرمہ میں منعقدہ دستخط کی اس تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان شریک تھے۔
معاہدے کے اہم نکات کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون کو فروغ دینے اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کے قیام کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
اس مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا۔
پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنرل (ر) نعمان محمود ممکنہ طور پر تین سال کی مدت کے لیے اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے کے ممالک امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں دوبارہ شدت آنے کے امکانات کے سبب تشویش کا شکار ہیں۔

اپنی رائے دیں