مواد پر جائیں
جمعہ، 30 اکتوبر 2026 19 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 2:15
بریکنگ
کراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمیخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہوزیراعظم کی لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوریٹرائی سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے شکست دے دیایران کو امریکی نائب صدر کا خط موصول، تہران کا جواب دینے سے گریزکے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکمبلوچستان کی باہمت خاتون کرکٹر زمر شفیع کینسر کے باوجود میدان میں ڈٹ گئیںمولانا فضل الرحمان کے بیان پر محسن نقوی کا سخت ردعمل، احترام کی گنجائش ختم ہونے کا اعلانپاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمیپاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضحپنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاریلاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرارکار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزالکی مروت: دو سالہ بچہ اغوا کے بعد قتل، بوری بند لاش برآمدکراچی: بنارس موبائل مارکیٹ میں ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسمار
پاکستان

خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر پرویز رشید نے دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ بیان بازی پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہ

وفاقی دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں نے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی حالیہ بیان بازی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس صورتحال کو معمول کی پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں بعض اوقات ماحول گرم ہونے پر الفاظ کا چناؤ حدود سے تجاوز کر جاتا ہے، تاہم سیاست دانوں میں اتنی لچک ہونی چاہیے کہ وہ معاملات کو بعد میں بہتر انداز میں حل کر سکیں۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ وہ مولانا فضل الرحمان پر خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تائید نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف اپنے خیالات کا اظہار دبنگ انداز میں کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور وہ کسی کی ہدایت پر بات نہیں کرتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کی اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تلخیاں رہی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں، اس لیے ایسی باتوں کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر مستقبل میں کسی اہم آئینی ترمیم کی ضرورت پیش آئی تو حکومت مولانا فضل الرحمان سے ضرور تعاون مانگے گی۔ انہیں یقین ہے کہ جب ترمیم ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگی تو مولانا فضل الرحمان حکومت کا ساتھ دیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی بحث کو محض پارلیمانی نوک جھوک قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی قسم کی کشیدگی یا ٹینشن نہیں سمجھتے۔

پرویز رشید نے کہا کہ دونوں سینئر رہنماؤں نے ایک طویل سیاسی رفاقت گزاری ہے اور ایک ہی جدوجہد میں شامل رہے ہیں۔ آج کل دونوں کی جماعتوں کے درمیان سیاسی محاذ آرائی ہے جس کے باعث کبھی کبھار آمنا سامنا ہو جاتا ہے اور ہمیں کچھ سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ان بیانات کو پارلیمانی نوک جھوک قرار دینا دراصل سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ماضی میں قریبی تعلقات رہے ہیں جنہیں برقرار رکھنے کی خواہش دونوں جانب سے محسوس کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید کا سلسلہ دیکھا گیا ہے۔ اس طرح کی سیاسی بحثیں اکثر پارلیمانی کارروائی کا حصہ بن جاتی ہیں جنہیں سیاسی مبصرین جمہوری عمل کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل آتا ہے یا نہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ تلخی مستقبل میں کسی بڑے سیاسی اتحاد میں رکاوٹ بنے گی یا نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ سیاست دانوں کے درمیان ہونے والی ایسی بحثوں پر ٹی وی ٹاک شوز میں غیر ضروری تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاست میں اختلافات عارضی ہوتے ہیں اور جمہوریت میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہنے چاہئیں۔

حکومتی ترجمانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی گفتگو کو ذاتی دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان دونوں ہی ملک کے تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ملکی مفاد میں کب اور کیسے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہے۔

مجموعی طور پر حکومتی صفوں سے آنے والے ان بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آئندہ دنوں میں سیاسی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ پارلیمانی امور کو احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں