ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کی میز کو نہیں چھوڑا اور نہ ہی سفارت کاری کے دروازے بند کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران آج بھی امن کے حصول کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کرنے پر یقین رکھتا ہے اور ثالثوں کے ذریعے مختلف ممالک کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور دفاع کے لیے کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ تیار رہنا ایک ناگزیر ضرورت ہے اور ایرانی قوم اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کو امریکا پر کسی قسم کا اعتماد نہیں ہے کیونکہ واشنگٹن کا رویہ مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں رہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مذاکرات کے عمل کے باوجود ایران پر دو حملے کیے گئے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا سفارت کاری کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران سے مکمل سرنڈر کا مطالبہ کر رہا ہے جسے کوئی بھی ایرانی شہری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک خود مختار ملک ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔
یورپی یونین کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ یورپی ممالک نے عالمی برادری کی توقعات کے برعکس امریکا کے ساتھ چلنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے پر یورپ نے اپنا تعمیری کردار ترک کر کے واشنگٹن کا ساتھ دیا ہے، جس سے خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس معاملے میں آزادانہ اور مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت تھی، لیکن یورپی یونین کی پالیسیوں نے اس توقع کو پورا نہیں کیا۔ ایران کا موقف ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔
اسماعیل بقائی نے اپنے انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران ایک پرامن ملک ہے جو خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو تہران اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایران کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تہران کی ترجیح ہمیشہ سے خطے کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالنا ہی واحد راستہ ہے، بشرطیکہ دوسری جانب سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔
ترجمان نے کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں اور دباؤ کی پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اپنے ملکی دفاع کو اولین ترجیح دیتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مغرب کے تحفظات بے بنیاد ہیں اور ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے تحت اپنے حقوق کا استعمال جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران کسی بھی ایسے معاہدے کا خیرمقدم کرے گا جو ایران کے جائز حقوق کا احترام کرے اور ملک پر عائد غیر منصفانہ پابندیوں کے خاتمے کا باعث بنے۔ تاہم، کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جو ایران کی خود مختاری کو مجروح کرے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی طاقتیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں گی اور ایران کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں گی۔
موجودہ عالمی سیاسی منظرنامے میں ایران کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسماعیل بقائی کے ان ریمارکس سے ایران کی جانب سے مذاکرات اور دفاع کے حوالے سے دو ٹوک موقف سامنے آیا ہے۔





اپنی رائے دیں