ایران کے صدر مسعود پزشکیان آئندہ ہفتے روس کا اہم دورہ کریں گے، جس کے دوران ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔
روسی دارالحکومت ماسکو میں ایرانی صدر گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم (GECF) کے آٹھویں سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں توانائی کے شعبے سے وابستہ مختلف ممالک کے سربراہان اور نمائندے شرکت کر رہے ہیں، جو عالمی توانائی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
روس میں تعینات ایرانی سفیر کاظم جلالی نے صدر کے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں علاقائی اور عالمی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ملاقات کے ایجنڈے میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، توانائی کے شعبے میں تعاون اور غذائی تحفظ جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی شمالی-جنوبی ٹرانسپورٹ راہداری (INSTC) کے منصوبے پر بھی بات چیت کی جائے گی جو تجارتی روابط کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس ٹرانسپورٹ راہداری کا بنیادی مقصد روس، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل کو تیز تر اور محفوظ بنانا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو ایک نئی جہت ملے گی اور معاشی انحصار میں بہتری آئے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق، اس ملاقات کے دوران کسی نئے معاہدے پر دستخط کا فی الحال کوئی پروگرام نہیں ہے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان جاری اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مشاورت کا عمل مسلسل جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں روس اور ایران نے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے میں توانائی، تجارت، نقل و حمل اور سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کا ایک وسیع فریم ورک طے کیا گیا تھا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس اور ایران دونوں کو مغربی ممالک کی جانب سے سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو مضبوط بنا کر معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی حال ہی میں تہران کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ماسکو میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل دوطرفہ امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کا یہ سلسلہ ماسکو میں بھی جاری رہے گا۔ دونوں ممالک کے سفارتی حلقے اس دورے کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔
ایران اور روس کے مابین بڑھتا ہوا یہ تعاون نہ صرف دوطرفہ تجارت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ علاقائی استحکام کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
ماسکو میں منعقد ہونے والا گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم توانائی کی عالمی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے کے لیے ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔ ایرانی صدر کی شرکت سے اس فورم کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسعود پزشکیان اور ولادیمیر پیوٹن کی ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں ایک نئی روح پھونکے گی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے لیے اپنے مفادات کے تحفظ اور باہمی تعاون کو بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہے۔





اپنی رائے دیں