وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے گمراہ کن الزامات عائد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جو کہ افسوسناک ہے۔
پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ اس کے سیکیورٹی اقدامات کا مقصد کسی بھی صورت افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے، بلکہ ان اقدامات کا واحد ہدف دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔
وزارت کے مطابق پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر افغان حکومت اپنی اس بنیادی ذمہ داری سے ہرگز بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
پاکستان کے سیکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ یہ ٹھوس شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ رپورٹس کی روشنی میں سامنے آئے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں ایک تلخ حقیقت ہیں جن کا اعتراف عالمی ادارے بھی کر چکے ہیں۔
اسی طرح امریکی انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین سے کارروائیوں کی کھلی اجازت دیتے رہے ہیں۔
وزارت اطلاعات نے مزید وضاحت کی کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ اور انہیں ملنے والی آزادی پاکستان کے خلاف حملوں میں تیزی کا باعث بنی ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
یہ جائزے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، جن پر فوری اور ٹھوس توجہ دینا افغان حکام کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔
حکومتی بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ موقف کہ افغانستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت یا دلچسپی نہیں رکھتا، دستاویزی شواہد کے سامنے بے وزن ہے۔ سرحد پار دراندازی کی کوششیں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔
پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا غیر ملکی ساختہ جدید اسلحہ اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کی ہلاکتیں سنجیدہ جانچ پڑتال اور فوری تدارک کا تقاضا کرتی ہیں۔
پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد وضاحت کی ضرورت ہے۔
وزارت اطلاعات نے زور دیا کہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ افغان عوام کے لیے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا کہ ان کے پاکستانی ہمسایوں کے لیے ہے۔
افغان حکومت کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، حمایت اور سہولت کاری کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے جائز دفاعی اقدامات کو دشمنی قرار دے کر اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
آخر میں وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے، تاہم امن کا دارومدار افغان سرزمین کے درست استعمال پر ہے۔





اپنی رائے دیں