پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مصروف ترین علاقے مزنگ لنک روڈ پر ایک طالبہ پر سرعام تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
واقعہ 20 اکتوبر کی شام کو پیش آیا جب یونیورسٹی سے گھر واپس جانے والی طالبہ اپنی سکوٹی پر سوار تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک موٹرسائیکل سوار شخص نے زبردستی طالبہ کا راستہ روکا اور اسے رکنے پر مجبور کیا۔
ملزم نے موٹرسائیکل سے اترتے ہی طالبہ پر حملہ کر دیا، اسے تھپڑ مارے اور تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے نیچے گرا دیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے طالبہ کا بیگ چھیننے کی کوشش کی جس سے اس کا 85 ہزار روپے مالیت کا لیپ ٹاپ ٹوٹ گیا اور طالبہ کے چہرے اور ناک کی ہڈی پر زخم آئے۔
موقع پر موجود شہریوں نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا تاہم مشتعل شہریوں نے اس کی موٹرسائیکل قبضے میں لے کر پولیس کے حوالے کر دی۔
تھانہ مزنگ میں متاثرہ طالبہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 427 اور 354 شامل کی گئی ہیں، جو کسی کو نقصان پہنچانے اور خاتون پر حملہ کرنے سے متعلق ہیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ملزم پیشے کے اعتبار سے وکیل ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے اور تشدد کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین اور بچے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی 'ریڈ لائن' ہیں اور ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
متاثرہ طالبہ کے والد نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی سے واپس آ رہی تھی جب یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے ان شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بروقت مداخلت کر کے ان کی بیٹی کی مدد کی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر خواتین کو ہراساں کرنے والے عناصر کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے تاکہ معاشرے میں خواتین کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش جاری ہے اور میڈیکولیگل رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ طالبہ کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
یہ واقعہ لاہور جیسے مصروف شہر میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مصروف شاہراہوں پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔
متاثرہ طالبہ کا ہسپتال سے طبی معائنہ کروایا گیا ہے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر 15 پر دیں۔





اپنی رائے دیں