آر فور ممالک کے حالیہ وزارتی اجلاس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اہم سیکیورٹی معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں یمن کی حکومت اور مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ شرکاء نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام جارحانہ کارروائیاں فوری بند کرے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے دھمکیاں اور حملے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اعلامیے میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے بشمول تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی سخت اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری اور مذاکرات کا راستہ اپنانا ناگزیر ہے۔
اجلاس کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اظہار کیا گیا اور اسے خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا اور امن و امان کو فروغ دیا جائے گا۔
فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے اجلاس میں دو ٹوک موقف اختیار کیا گیا۔ اعلامیے میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے پرتشدد کارروائیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزراء نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد پر زور دیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔
آر فور ممالک کے اس اجلاس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
اجلاس کے شرکاء نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری کا احترام عالمی امن کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
مستقبل کے حوالے سے اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ رکن ممالک باہمی مشاورت کے عمل کو مزید تیز کریں گے۔ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دینا ہی واحد راستہ ہے جس سے خطے کو جنگ اور تنازعات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب خطے کو مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور عالمی برادری کی نظریں ان پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سعودی عرب کی حمایت اور فلسطین کے معاملے پر متفقہ موقف نے آر فور ممالک کے اتحاد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اعلامیے میں شامل نکات بین الاقوامی سطح پر خطے کے ممالک کے متوازن اور ذمہ دارانہ کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
آخر میں، وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی اس طرح کے اجلاسوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔ اس طرح کے اقدامات خطے میں اعتماد سازی کے عمل کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔





اپنی رائے دیں