کراچی کے علاقے گڈاپ سٹی میں پولیس نے ایک انوکھی کارروائی کے دوران اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سپر ہائی وے کے قریب معمول کی اسنیپ چیکنگ کے دوران ایک مشکوک سوزوکی پک اپ کو رکنے کا اشارہ کیا گیا۔
گاڑی کی تلاشی کے دوران پولیس کو گاڑی کے عقبی حصے میں دو گدھے بندھے ہوئے ملے، جنہیں بظاہر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا تھا۔ تاہم پولیس نے شک کی بنیاد پر گاڑی کے فرش کی باریک بینی سے تلاشی لی۔
تلاشی کے دوران گاڑی کے فرش کے نیچے مہارت سے چھپائی گئی 150 کلو گرام چھالیہ برآمد ہوئی، جسے اسمگلر کراچی سے حیدرآباد منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے فوری طور پر چھالیہ اور گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس موقع پر پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور نواز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے پولیس کو دھوکہ دینے اور چیکنگ سے بچنے کے لیے گدھوں کو گاڑی میں لوڈ کیا تھا تاکہ کسی کو چھالیہ کی موجودگی کا شبہ نہ ہو۔
گڈاپ سٹی پولیس نے گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور واقعے کی مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کا سراغ لگانے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
شہر کے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی جانب سے اسنیپ چیکنگ کا عمل سخت کر دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی اشیاء کی ترسیل کو روکا جا سکے۔ اس طرح کی کارروائیاں اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی میں چھالیہ کی غیر قانونی تجارت ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ اس سے قبل بھی پولیس نے کئی بار اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بنائی ہیں۔
پولیس کے مطابق ملزم سے مزید پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ چھالیہ کہاں سے لائی گئی تھی اور اسے حیدرآباد میں کس کو پہنچایا جانا تھا۔ تفتیش کے بعد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کی اس بروقت کارروائی کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنے والے مجرموں کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ گڈاپ سٹی پولیس اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسمگلر اپنے مذموم مقاصد کے لیے نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں۔ پولیس کی مستعدی نے اس بار بھی ایک بڑی مقدار میں چھالیہ کو مارکیٹ میں جانے سے روک دیا ہے۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کسی بھی مشکوک سرگرمی کو دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔ شہریوں کا تعاون جرائم کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
مستقبل میں بھی اس طرح کی چیکنگ کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ شہر میں غیر قانونی سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔





اپنی رائے دیں