بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر ایک دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں مسافر کوچ اور منی وین کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور بائیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اوتھل زیرو پوائنٹ کے نزدیک پیش آیا جہاں تیز رفتار مسافر کوچ اور مخالف سمت سے آنے والی منی وین آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور مسافروں کو فوری طور پر سنبھالنے کا موقع نہ مل سکا۔
ایدھی ذرائع اور مقامی انتظامیہ کے مطابق اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں جبکہ سات مرد لقمہ اجل بنے ہیں۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں بیس سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تاحال تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پولیس اور لیویز حکام نے واقعے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ مسافر کوچ گوادر سے کراچی کی طرف جا رہی تھی جبکہ منی وین کراچی سے بیلہ کی جانب سفر کر رہی تھی۔ دونوں گاڑیوں کی تیز رفتاری کے باعث یہ تباہ کن تصادم عمل میں آیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی حرکت میں آ گئے اور اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کے علاج معالجے میں مصروف عمل ہیں۔
مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ غفلت کس جانب سے برتی گئی۔ ابتدائی طور پر حادثے کی بنیادی وجہ تیز رفتاری بتائی جا رہی ہے۔
حادثے کے بعد کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی تھی جسے پولیس اور لیویز کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر بحال کرایا۔ مسافروں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اس سے قبل بھی اس نوعیت کے متعدد حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ماہرین اور مسافروں نے شاہراہ پر ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی اور اوور اسپیڈنگ کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے لسبیلہ کے قریب پیش آنے والے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طویل سفر پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کی فٹنس اور ڈرائیورز کی روڈ سیفٹی کا کڑی سے کڑی نگرانی کی جائے۔
انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمی مسافروں کو طبی امداد کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران تمام متعلقہ اداروں نے بھرپور تعاون کیا۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار حادثے کی تمام جہتوں سے قانونی کارروائی مکمل کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
عوام اور مسافر تنظیموں نے بھی قومی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کی نگرانی سخت کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کے المناک حادثات کا تدارک ممکن ہو سکے۔



اپنی رائے دیں