مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:18
بریکنگ
کراچی: نجی ہسپتال کے آلات سے نومولود میں ایم پاکس کی تصدیق، ہسپتال سیلپنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہدہشت گردی قومی مسئلہ ہے، سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر تعاون کیا جائے: وفاقی وزراءکراچی میں آن لائن فحش مواد کی تیاری اور فراڈ میں ملوث 3 کمپنیاں بے نقابامریکی ریئلٹی اسٹار انیکا راشون چھاتی کے کینسر کے باعث 34 برس کی عمر میں چل بسیںپاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقویبھارت نے نیوزی لینڈ کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں شکست دے کر سیریز میں برتری دو صفر کر لیڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کیخلاف بڑے آپریشن کی دھمکی، پاک بھارت جنگ رکوانے کا دعویٰمیاں عامر کی پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ میں تعاون کی پیشکشبیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقلکراچی ایئرپورٹ پر کارروائی، عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والے 5 مسافر گرفتارمیر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر پولیس افسران کے خلاف کارروائی شروعسپریم کورٹ: قتل کیس کے ملزم کی قبل از وقت رہائی قانون کے خلاف قرارصوابی میں علماء و مشائخ کا پاک فوج اور حکومت سے بھرپور یکجہتی کا اعلانایران پر نیا حملہ کشیدگی بڑھا دے گا، ترک وزیرِ خارجہ کا انتباہبرطانیہ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے نئی قومی مہم کا آغازپنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہچین نے خلا میں ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کے دو نئے گروپ روانہ کر دیےاسلام آباد ہائیکورٹ کا سرکاری ملازم کو پنشن کی ادائیگی کا حکمسندھ ہائی کورٹ: 15 ارب روپے سے زائد کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب طلب
کاروبار

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری

عالمی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث ملکی معیشت کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق اپنی تازہ ترین علاقائی رپورٹ میں پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے حوالے سے اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درآمدات میں متوقع اضافے اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں سستی کے باعث ملکی معیشت کو بیرونی محاذ پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو تقریباً 4.5 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے کافی زیادہ ہے، جس سے معاشی اہداف کے حصول میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو دیگر ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ صورتحال ملک کے لیے مختلف مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہے جن سے نمٹنے کے لیے محتاط حکمت عملی درکار ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان گہرے مالیاتی تعلق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں میں سرکاری قرضوں کا تناسب 63 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے متعلق خدشات کے نتیجے میں قرض لینے کی لاگت بنیادی تخمینوں سے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا اندیشہ ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مجموعی مالیاتی ضروریات پہلے ہی بلند سطح پر ہیں۔

مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے آئی ایم ایف نے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں مہنگائی ہدف سے زیادہ ہے، وہاں مرکزی بینک کو شرحِ سود کے حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تاکہ معاشی توازن برقرار رہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں مرکزی بینک کی پالیسی شرحِ سود غیر جانبدار سطح سے کم دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں معاشی استحکام کے لیے مزید سخت مالیاتی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ شرح حکومت کے مقرر کردہ چار فیصد کے ہدف سے کم ہے، جبکہ عالمی بینک کے تخمینے کے بھی قریب ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی بحالی کی رفتار توقعات سے سست رہ سکتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے روپے کی قدر میں لچک برقرار رکھنے کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ شرحِ مبادلہ میں اچانک بڑی تبدیلی سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ برآمدات میں فوری اور نمایاں اضافے کے امکانات بھی غیر یقینی ہیں۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہے گی۔ تاہم 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط و تحمل کی پالیسی دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے تاکہ طویل مدتی معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد لچکدار شرحِ مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے شرحِ سود میں اضافہ کیا۔ یہ اقدام ملکی معیشت کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے اور افراطِ زر کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ ملکی معیشت کے لیے ایک انتباہ ہے جس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات کو محدود کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

حکومت کی جانب سے ان معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اصلاحات پر کام جاری ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق، مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے پاکستان اپنی بیرونی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم بنا سکتا ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں