کراچی کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کے دوران منشیات کے مکروہ دھندے میں ملوث ایک بدنام زمانہ ملزم کو گرفتار کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی ممنوعه منشیات بھی برآمد کر لی گئی ہے جسے شہر کے مختلف حصوں میں سپلائی کیا جانا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ اقدام شہر میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے جس کی بازگشت ہر طرف سنائی دے رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی فیروز آباد پولیس اور ایک وفاقی سول حساس ادارے نے باہمی تعاون اور انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی۔ دونوں اداروں نے انتہائی پیشہ ورانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے ملزم کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اسے فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔ اس مشترکہ آپریشن کی کامیابی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے واضح پیغام چھوڑا ہے۔
گرفتار کیے جانے والے ملزم کی شناخت قاسم عرف قاسو ولد عبد الحق کے نام سے کی گئی ہے جو مبینہ طور پر طویل عرصے سے شہر کے مختلف علاقوں میں منشیات کا ایک بڑا نیٹ ورک چلانے میں ملوث تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق یہ ملزم انتہائی چالاکی اور مکاری سے اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا رہا تھا اور نوجوان نسل کو اس زہر کا عادی بنا رہا تھا۔ شہریوں نے اس خطرناک عناصر کی گرفتاری پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس عزم کو سراہا ہے۔
کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے ملزم کے قبضے سے قیمتی منشیات آئس کی بڑی مقدار برآمد کی ہے جس کی مالیت لاکھوں روپے بتائی جاتی ہے۔ اس برآمدگی کو منشیات کے خلاف جاری مہم میں ایک فیصلہ کن اور اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ آئس جیسی خطرناک منشیات کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملزم شہر کے تعلیمی اداروں اور نوجوان طبقے کو نشانہ بنا رہا تھا تاکہ اپنے مذموم نیٹ ورک کو مزید وسعت دے سکے۔
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زبیر نذیر شیخ نے اس کامیاب کارروائی اور ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلی میڈیا کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم شہر کے مختلف حصوں میں نوجوان نسل کو تباہ کرنے والے اس زہر کی ترسیل میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے اعلیٰ افسران کی زیر نگرانی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جو اس آپریشن کی کامیابی کے پیچھے کارفرما تھیں۔
پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرفتار ملزم قاسم عرف قاسو کا ایک طویل مجرمانہ پس منظر بھی سامنے آیا ہے جو ماضی میں بھی قانون کی گرفت میں آ چکا ہے۔ ملزم کے خلاف ماضی میں ماڈل کالونی، ملیر سٹی اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے تھانوں میں مختلف نوعیت کے سنگین مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ ان تمام سابقہ ریکارڈز سے عیاں ہوتا ہے کہ ملزم عادی مجرم ہے جو عدالتی کارروائیوں اور سزاؤں کے باوجود اپنی سرگرمیوں سے باز نہیں آیا اور مسلسل قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتا رہا۔
ان تمام سابقہ مقدمات اور ماضی کی گرفتاریوں کے باوجود ملزم ضمانت پر رہا ہو کر یا سزا کاٹ کر دوبارہ اسی گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہو جاتا تھا اور اپنے نیٹ ورک کو پھیلانے کی کوشش کرتا تھا۔ تازہ ترین مشترکہ کارروائی نے اس کے اس مجرمانہ سلسلے کو وقتی طور پر روک دیا ہے اور قانون کی رٹ کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔ معاشرے کے ناسور بننے والے ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی تھی تاکہ امن و امان کی فضا برقرار رکھی جا سکے۔
اب گرفتار ملزم کے خلاف ضابطے کی کارروائی کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے نارکوٹکس ایکٹ کے تحت ایک نیا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم سے مزید سخت اور تہہ تک جانے والی تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ تمام حقائق جلد از جلد سامنے لائے جا سکیں۔ تفتیش کے اس مرحلے پر کئی اہم انکشافات متوقع ہیں جو اس نیٹ ورک کی جڑیں اکھاڑنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کا بھی گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ اس منشیات فروش کے ساتھ کون کون سے دیگر افراد، گروہ اور عناصر اس نیٹ ورک میں شامل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کی جڑیں مکمل طور پر اکھاڑنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں اور کسی بھی با اثر شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ منشیات کی اس گھناؤنی سپلائی چین کو توڑنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ کے مطابق گرفتار ملزم کے دورانِ تفتیش کیے جانے والے انکشافات کی روشنی میں اس کے دیگر فرار ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی شہر بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس ٹیمیں اور حساس اداروں کے اہلکار مختلف مشکوک مقامات پر چھاپے مار کر کارروائیاں تیز کر چکی ہیں تاکہ کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ ان چھاپوں کے نتیجے میں مزید اہم گرفتاریاں عمل میں آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
شہر میں روز بروز بڑھتی ہوئی منشیات کی اس لعنت کے مکمل خاتمے کے لیے تمام متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح متحرک ہیں اور اس طرح کے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے بھی اس کامیاب مشترکہ کارروائی کو بے حد سراہا ہے اور پولیس اور حساس اداروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے معاشرے میں خوف کی علامت بننے والے عناصر کے حوصلے پست ہوتے ہیں۔
حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ مشترکہ اور پختہ عزم ہے کہ نوجوانوں کو منشیات کی ہلاکت خیزیوں اور تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اس مکروہ دھندے میں ملوث بڑے ڈیلرز، اسمگلرز اور ان کے پشت پناہ افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔ ملزم کو تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے اس کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا تاکہ اس نیٹ ورک کا مکمل صفایا ممکن ہو سکے۔
منشیات کے خلاف یہ جنگ صرف ایک محکمے کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بقا کی جنگ ہے جس میں عوام کا تعاون بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس عزم پر کاربند ہیں کہ کراچی کو مکمل طور پر منشیات سے پاک شہر بنایا جائے گا جہاں قانون کی بالادستی قائم ہو۔





اپنی رائے دیں