مواد پر جائیں
اتوار، 1 نومبر 2026 21 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
سیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص ہلاکبائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیاآسٹریلوی پی جی اے چیمپئن شپ، تاریخی جو کرک ووڈ کپ سڈنی پہنچ گیاامہرسٹ کالج نے ٹفٹس یونیورسٹی کو 21 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست دیصادق پبلک اسکول بہاولپور نے تقریری مقابلے کی ٹرافی جیت لیقاہرہ کی مرکزی شاہراہ پر ڈیجیٹل بل بورڈ ہیک، نازیبا ویڈیو نشرپاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم کا خیرمقدمگیس کی قلت: نئے گھریلو اور کمرشل کنکشنز پر پابندی غیر معینہ مدت تک عائدلاہور: شالیمار پولیس نے 6 سالہ بچے سے بدفعلی کی کوشش ناکام بنادی، ملزم گرفتارلاہور: ٹرائی سیریز پر بہترین ٹریفک انتظامات، سی ٹی او کی افسران کو شاباشڈولفن سکواڈ کی کارروائیاں، 10 اشتہاریوں سمیت 18 عادی مجرمان گرفتاراین سی سی آئی اے کی کارروائیاں، خواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان دبوچ لیےنایاب علی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کا حصہ بن گئیںکوئن پیاک نے پروویڈنس کو ایک کے مقابلے میں پانچ گول سے ہرا دیاسعودی عرب: اسکولوں میں آج سے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروعممفس ٹائیگرز نے امریکن فٹبال میچ میں آرمی بلیک نائٹس کو شکست دے دیسید اقرار الحسن کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکمکووینٹری سٹی نے سننڈر لینڈ کو شکست دے کر ریلیگیشن زون سے چھٹکارا پا لیاٹائرس میکسی کے 38 پوائنٹس، سکسرز نے ہورنیٹس کو ہرا دیاایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان
سیاست

خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی لگانا پڑی: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتے تھے۔

خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی لگانا پڑی: وزیراعظم شہباز شریف

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گوجرانوالہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں مجبوری کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت صوبے کی ترقی اور خوش حالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے لیکن صوبے میں آئے روز کی دھمکیوں اور متنازع لانگ مارچ کے پروگرامز کی وجہ سے پورے ملک کا انتظامی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حلقوں کو پہلے ہی باور کرا دیا تھا کہ صوبے کو ترقیاتی امور اور فلاحی کاموں کے لیے جو بھی مالی وسائل درکار ہوں گے، وفاقی حکومت انہیں بلا تامل فراہم کرے گی۔

شہباز شریف کا مؤقف تھا کہ اگر ایسے کشیدہ اور خطرناک حالات میں وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی تو یہ ایک بڑی مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا جسے آنے والی نسلیں کبھی معاف نہ کرتیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کی سلامتی اور آئینی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت فیصلے کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکے تھے تاکہ کسی بھی بڑے قومی نقصان اور بدترین بحران کو روکا جا سکے۔

وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ سے متعدد بار رابطہ کرکے کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے ناسور کے خلاف تمام قوتوں کو باہم مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔

تاہم ان کا شکوہ تھا کہ اس مخلصانہ تعاون کی پیشکش کے جواب میں مسلسل اشتعال انگیز بیانات اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں جو کہ ملکی مفاد اور امن کے منافی تھیں۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ اس بار بھی احتجاج اور دھرنے کی سیاست کرنے والوں نے مبینہ طور پر خوں ریزی کا خطرناک منصوبہ بنا رکھا تھا جو ملکی سلامتی اور عوام کے جان و مال کے لیے براہ راست خطرہ تھا۔

انہوں نے متعلقہ سیاسی جماعت کی ماضی کی سیاسی تاریخ کو بھیانک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد اقدامات سے ہمیشہ ملکی معیشت، عوامی املاک اور پُرامن ماحول کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

خیبر پختونخوا کے غیور عوام کی لازوال قربانیوں کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہاں کے باسیوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں پیش کی ہیں اور وہ امن کے مستحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے پڑوسی ملک افغانستان کی سمت سے دہشت گردی کا جو مذموم سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ بدستور کسی نہ کسی شکل میں اب تک مسلسل جاری و ساری ہے۔

خطے کی مجموعی اور پیچیدہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خلیجی جنگ کے منفی اور گہرے اثرات پوری علاقائی معیشت اور ملکی حالات پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں جن سے نمٹنا ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی آگاہ کیا کہ اس قومی بحران سے احسن طریقے سے نمٹنے کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے دن رات بیٹھ کر مسلسل اور سنجیدہ کوششیں کیں تاکہ معاملات کو افہام و تفہیم سے سلجھایا جا سکے۔

خیال رہے کہ حالیہ چند روز کے دوران خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا جس کی آئینی تقاضوں کے مطابق ملک کی پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر توثیق کر دی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں