مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 9:36
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکلاہور: نشتر کالونی میں مبینہ زہریلا دودھ پینے سے بچہ جاں بحق، دکاندار گرفتارجماعت اسلامی کا 23 اکتوبر سے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کے تیسرے مرحلے کا اعلانسعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمتگندم کی وافر دستیابی، تمام صوبوں میں مؤثر اقدامات کی ہدایتوسیم کیس: چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ملتان میں یتیم خانے کا دورہ، 16 بچے تحویل میںملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہمنصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصفمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہبیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایتفیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اکاؤنٹ ہیکنگ کے خطرے پر اہم الرٹ جاریپشاور: اضاخیل گودام کی سیلاب زدہ گندم مضرِ صحت قرار، ذمہ داروں کی معطلی کی سفارش107 سالہ برطانوی شہری نے طویل العمری کا دلچسپ راز بتا دیاکریڈٹ کارڈز کے ذریعے اخراجات میں کمی اور کیش بیک کا حصولکشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ: آئندہ دس دنوں میں اہم پیش رفت ہو گی، محسن نقویچین میں بارہویں منزل کی کھڑکی سے لٹکنے والی معصوم بچی کو بچا لیا گیاجعلی نمبر پلیٹ پر یوٹیوبر رجب بٹ کی لگژری گاڑی تھانے میں بند، مقدمہ درج
کاروبار

بینکوں کے ڈیپازٹس کو ملکی معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، گوہر اعجاز

سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل بینکوں کے ڈیپازٹس کو کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے لگایا جائے۔

بینکوں کے ڈیپازٹس کو ملکی معاشی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے، گوہر اعجاز

سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے ملکی معیشت کی بہتری اور صنعتی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے حوالے سے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود رقوم اور ڈیپازٹس میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہو چکا ہے کہ بینکوں میں جمع ہونے والے ان فنڈز کو صرف حکومت کو قرضے فراہم کرنے تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کا موثر استعمال ملکی معیشت کی ترقی اور پیداواری شعبے کی بحالی کے لیے کیا جانا ناگزیر ہے۔

معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ سرمائے کی دستیابی سے کاروباری عمل میں تیزی آتی ہے۔ گوہر اعجاز نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی عمل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بینکوں کے کل ڈیپازٹس میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں مالیاتی وسائل کی کمی نہیں ہے بلکہ ان وسائل کی درست سمت میں تقسیم اور استعمال کا معاملہ ہے۔

سرکاری ریکارڈ اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق ستمبر 2026 کے اختتام تک ملک کے تمام کمرشل بینکوں کے مجموعی ڈیپازٹس کی مالیت چالیس اعشاریہ تراسی ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سرمائے کا حجم ہے جو معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر چار سال قبل کا جائزہ لیا جائے تو ستمبر 2022 کے دوران کمرشل بینکوں کے کل ڈیپازٹس اکیس ٹریلین روپے کے قریب ریکارڈ کیے گئے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ محض چار برس کے مختصر عرصے میں یہ حجم دگنا ہو چکا ہے۔

سابق نگران وزیر کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں فنڈز جمع ہونے کے باوجود اگر یہ صنعتی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال نہ ہوں تو معاشی استحکام کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ صنعتوں کو نقد سرمائے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

کاروباری طبقے کو درپیش مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی وکالت کی کہ تاجروں اور صنعت کاروں کو بینکوں میں پڑے ان ڈیپازٹس تک آسان اور سازگار شرائط پر رسائی دی جائے۔ اس سے نجی شعبہ زیادہ فعال ہو سکے گا۔

جب نجی شعبے کو آسان اقساط یا بہتر شرائط پر قرضے ملیں گے تو ملک میں نئی صنعتیں لگیں گی اور پرانی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس عمل سے مجموعی قومی پیداوار میں بہتری آئے گی۔

صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے اس طرح بڑھنے سے ملک کے اندر روزگار کے نئے اور وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے صنعتی پہیے کا تیز چلنا انتہائی ضروری ہے۔

معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنے سے ملکی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہوتا ہے جو ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ملکی کرنسی کی قدر کو بھی استحکام ملتا ہے۔

گوہر اعجاز کے مطابق معیشت کا پہیہ رواں دواں ہونے سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جب ملکی آمدنی بڑھے گی تو بیرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائیگی میں آسانی ہوگی۔

اس کے علاوہ حکومت کو بلند شرح سود پر جو بھاری ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں، ان میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ شرح سود کم ہونے سے ملکی خزانے پر پڑنے والا بوجھ ہلکا ہو گا اور فنڈز ترقیاتی کاموں میں لگیں گے۔

بینکنگ سیکرٹر کو بھی چاہیے کہ وہ نجی شعبے بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے قرضوں کے حصول کے عمل کو آسان بنائے۔ اس سے گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملے گا۔

ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ بینکوں کے پاس اتنی بڑی مقدار میں لیکویڈیٹی موجود ہے جسے اگر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو پاکستان معاشی بحرانوں سے مستقل طور پر نجات حاصل کر سکتا ہے۔

تمام متعلقہ اداروں اور پالیسی سازوں کو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تاکہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکیں۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں