پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں تقریباً ساڑھے تین سو مشتبہ کال سینٹر جعل سازی اور دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز کے خلاف کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ یہ نیٹ ورک اکثر رہائشی مکانات یا چلتی گاڑیوں سے اپنا کام چلاتے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ ان کے سروے کے مطابق کراچی میں 300 سے 350 ایسے کال سینٹرز فعال ہیں جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کو کام کرنے کے لیے بڑے دفاتر کی ضرورت نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کا سراغ لگانا تفتیشی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
حال ہی میں این سی سی آئی اے نے کراچی میں 'ووکسٹرون سلوشنز' نامی ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 273 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار کمپیوٹر قبضے میں لیے گئے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق، مذکورہ کال سینٹر کے ملازمین بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو جعلی مالیاتی اسکیموں، کریڈٹ کارڈ کی پیشکشوں اور بینک نمائندے بن کر دھوکہ دیتے تھے۔ حاصل کی گئی حساس معلومات کو بعد ازاں امریکہ میں رجسٹرڈ کمپنیوں سے منسلک تاجروں کو فراہم کیا جاتا تھا تاکہ غیر مجاز مالی لین دین کیا جا سکے۔
شہزاد اکبر نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی کسی غیر ملکی حکومت یا بین الاقوامی ادارے کی اطلاع پر نہیں، بلکہ ایک مقامی ذریعے سے ملنے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ اب ایک ایک کر کے ان تمام مراکز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس کمپنی کے خلاف قبل ازیں دو مرتبہ قانونی کارروائی کی جا چکی ہے، تاہم صرف مالکان کو نامزد کرنے اور تکنیکی مہارت رکھنے والے ملازمین کو چھوڑ دینے کے باعث یہ گروہ دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے پاس مخصوص مہارت ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ مختلف ناموں سے دوبارہ کام شروع کر دیتے ہیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران، جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ گلریز میمن نے 98 خواتین اور دو کم عمر لڑکوں کو فی کس پانچ ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کم عمر ملزمان کی عمر کی تصدیق کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔
عدالت نے کمپنی کے مالکان سمیت نو مرکزی ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کے حوالے کر دیا ہے، جبکہ دیگر گرفتار افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
سکیورٹی خدشات اور ملزمان کی بڑی تعداد کو منتقل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات کے پیشِ نظر، محکمہ داخلہ سندھ نے اس کال سینٹر کی عمارت کو عارضی طور پر 'سب جیل' قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
گرفتاریوں کے بعد زیر حراست ملازمین کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں سے کئی نوجوان کمپنی کی غیر قانونی سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ بھرتی کے اشتہار میں 18 سال کی عمر مقرر ہونے کے باوجود اخراجات کم رکھنے کے لیے کم عمر افراد کو بھی ملازمت پر رکھا گیا تھا۔
این سی سی آئی اے اب ڈیجیٹل شواہد اور مالی لین دین کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس نیٹ ورک کے پھیلاؤ کا مکمل تعین کیا جا سکے۔ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے نیٹ ورکس کو چلانے کے لیے صرف آئی ٹی سروسز کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی بھی چھوٹے گھر سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق، کچھ گروہ جعل سازی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے اپنی جگہ تبدیل کرنے کے لیے متعدد گاڑیاں بھی استعمال کر رہے ہیں تاکہ حکومتی پکڑ سے بچ سکیں۔ این سی سی آئی اے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری رہے گا۔

اپنی رائے دیں