وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے متنازع ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو منصوبے کا قانونی طور پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
اس موقع پر وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جہاں انہوں نے میڈیا کو اس اہم حکومتی اقدام سے آگاہ کیا۔
محسن نقوی نے اعلان کیا کہ آئندہ چند ماہ کے اندر اس عمارت کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ دارالحکومت میں بڑے ہوٹل کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم یعنی جے آئی ٹی کی رپورٹ کے منتظر تھے جسے آج کابینہ نے باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے اور اس رپورٹ میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سرکاری زمینوں پر بے دردی سے قبضے کیے گئے ہیں اور بعض علاقوں میں شہریوں نے اپنے گھروں کے لان تک سرکاری زمین پر بنا رکھے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سی ڈی اے کا ایک رکن آج ہی سے اس عمارت کے تمام امور کی نگرانی اور معاملات کو سنبھالے گا۔
ان کے مطابق اس عمارت کی مالیت کا درست تخمینہ لگانے کے لیے اس کا تعین کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے ذریعے کرایا جائے گا۔
منصوبے کے حوالے سے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جن افراد نے اس پروجیکٹ میں اپنی رقوم جمع کرائی تھیں، ان تمام کو ان کی ادا کردہ رقم مکمل طور پر واپس لوٹا دی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس پورے معاملے میں کسی بھی فرد کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اسلام آباد میں سرکاری اراضی کو واگزار کرانے کے لیے جاری کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ای بارہ، سی چودہ اور سی پندرہ کے علاقوں کی زمین بھی بہت جلد واگزار کرا لی جائے گی۔
سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں رعایت دینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
محسن نقوی نے مزید بتایا کہ تجاوزات اور قبضوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشنز کے دوران مختلف سمتوں سے دباؤ ضرور آتا ہے، تاہم تمام تر دباؤ کے باوجود قانونی کارروائی بلاتعطل جاری رکھی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کے اس تمام معاملے میں وزیراعظم پاکستان کا مکمل تعاون اور اعتماد حاصل رہا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ایک اور سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سی ڈی اے سے سوال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔


اپنی رائے دیں