وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانا اور وفاقی دارالحکومت کی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ منصوبہ محض 500 میٹر کا انڈر پاس نہیں ہے بلکہ یہ 4 کلومیٹر طویل سڑکوں پر مشتمل ایک جدید نیٹ ورک ہے، جسے ایک ارب 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے اس منصوبے کی تکمیل کو ایس سی او کانفرنس اور دیگر اہم قومی و بین الاقوامی تقریبات کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا ایک عملی ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
منصوبے کی ریکارڈ 27 روز میں تکمیل پر وزیراعظم نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے طویل سیاسی کیریئر میں، انہوں نے اتنی برق رفتاری سے کسی میگا پروجیکٹ کو مکمل ہوتے نہیں دیکھا۔
وزیراعظم نے منصوبے کی شفافیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ ای پیڈز کے شفاف طریقہ کار کے ذریعے ٹھیکے پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ تخمینہ لاگت سے تقریباً ڈھائی فیصد کم قیمت پر مکمل کیا گیا ہے، جو کہ ایک قابلِ ستائش اقدام ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کشمیر چوک انڈر پاس کا منصوبہ معیاری کام کے ساتھ صرف 27 روز کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے تحت 6 ہزار 340 نئے درخت لگائے گئے ہیں تاکہ ماحول کو سرسبز بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، منصوبے کے اطراف کشمیر کی مناسبت سے دو خوبصورت یادگاریں (مونومنٹس) بھی تعمیر کی گئی ہیں۔
وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم نے ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کے معاملے پر مکمل تعاون اور حمایت فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کی جے آئی ٹی رپورٹ کی منظوری دے دی ہے۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اربوں روپے مالیت کی ون کان سٹی ٹیوشن ایونیو کی جائیداد سی ڈی اے (کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کو واپس مل گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ اگلے سال ہونے والی ایس سی او کانفرنس کے پیش نظر اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
انہوں نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو پھولوں سے سجایا جائے تاکہ ان کی مہک سے وفاقی دارالحکومت کے شہری اور یہاں آنے والے مہمان لطف اندوز ہو سکیں۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کی شبانہ روز خدمت کے لیے اسی جذبے کے ساتھ ایک ٹیم بن کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق، اسلام آباد میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مزید منصوبے بھی زیر غور ہیں جو ایس سی او کانفرنس کے انعقاد سے قبل مکمل کیے جائیں گے۔
یہ منصوبہ وفاقی دارالحکومت کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے حکومتی ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ شہر کے حسن کو بحال رکھنا ہے۔


اپنی رائے دیں