مواد پر جائیں
جمعرات، 5 نومبر 2026 25 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںکرسٹیانو رونالڈو کا انٹرنیشنل فٹ بال سے ریٹائرمنٹ کا اعلانپردہ دار خواتین کو زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے، اداکارہ حنا خواجہ بیات کا انکشافجاپان فٹ بال ایسوسی ایشن کے کوزو تاشیما فیفا صدارت کے امیدوارپنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے 40 سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کے اہل خانہ تلاش کر لیےمقامی دفاعی صلاحیتوں کا فروغ اور مسلسل تربیت ناگزیر ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیراوگرا کی جانب سے 6 نومبر کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے ریلیف کا امکانوزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر چوک انڈر پاس منصوبے کا افتتاح کر دیاسعودی عرب: ینبع میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر سول ڈیفنس کا الرٹ جاریوارنر برادرز کی نئی اینیمیٹڈ فلم دی کیٹ ان دی ہیٹ کا اعلانچیمپئنز لیگ: کومو کی لینس کے خلاف تاریخی فتح، لیورپول کو شکستپاکستان میں رواں سال کا نواں پولیو کیس ضلع خیبر سے رپورٹپاکستان اور برطانیہ کا سیکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوسیم اکرم کا افغانستان پریمیئر لیگ میں شرکت سے انکارپولیو سے پاک پاکستان کا حصول بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریفپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگاوکٹر ومبنیاما کے 52 پوائنٹس کے شاندار کھیل سے سپرز کی ڈلاس میورکس پر کامیابیامریکی ریاست کولوراڈو میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہیسوات: خاتون سے زیادتی میں ملوث 2 پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درجفیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او کیسز سننے سے روک دیا
لاہور

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے 40 سال سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون کے اہل خانہ تلاش کر لیے

اسلام آباد سے 2013 میں لاوارث ملنے والی خاتون حلیمہ کے بیٹے اور بھتیجے کا بنگلہ دیش میں سراغ لگا لیا گیا ہے۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے گم شدہ افراد کی تلاش کے خصوصی منصوبے 'میرا پیارا' نے ایک اور بڑی انسانی کامیابی حاصل کرتے ہوئے 40 سال سے اپنے خاندان سے بچھڑی بنگلہ دیشی خاتون حلیمہ کے اہل خانہ کا سراغ لگا لیا ہے۔

اس حوالے سے ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے بتایا کہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی حلیمہ سال 2013 میں اسلام آباد سے لاوارث حالت میں ملی تھیں۔

خاتون اردو زبان سے مکمل طور پر ناواقف تھیں جس کی وجہ سے وہ اپنی شناخت، اپنے آبائی علاقے یا خاندان کے بارے میں کوئی بھی ٹھوس معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھیں۔

ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں عارضی رہائش اور دیکھ بھال کے لیے ایدھی سینٹر منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں وہ گزشتہ کئی برسوں سے مقیم تھیں۔

سیف سٹی کی 'میرا پیارا' ٹیم نے اس کیس پر کام شروع کیا اور خاتون کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی محدود معلومات کی بنیاد پر ان کے خاندان کی تلاش کا باقاعدہ آغاز کیا۔

ٹیم نے سوشل میڈیا، مقامی انتظامیہ اور دیگر دستیاب ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی کوششوں کا دائرہ کار بنگلہ دیش تک وسیع کر دیا۔

خاتون کے بتائے گئے آبائی گاؤں اور اپنے رشتہ داروں کے ناموں کی مدد سے سیف سٹی کی ٹیم بالآخر بنگلہ دیش میں موجود ان کے بیٹے اور بھتیجے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

بعد ازاں مقامی حکام اور اہل خانہ سے براہِ راست رابطہ قائم کیا گیا تاکہ فراہم کردہ معلومات کی باقاعدہ تصدیق کی جا سکے، جس کے بعد ان کے خاندان کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے ترجمان کا اس کامیابی پر کہنا ہے کہ 'میرا پیارا' منصوبہ سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت اور بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے پیاروں سے ملانے کے لیے مسلسل فعال ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ ادارہ اس سے قبل بھی 40 سال سے بچھڑی ایک اور بنگلہ دیشی خاتون کوہ نور کے خاندان کی تلاش بھی کامیابی سے مکمل کر چکا ہے، جو کہ انسانی خدمت کی ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔

حلیمہ کے اہل خانہ کی تلاش اس عزم اور مسلسل جدوجہد کی ایک اور نمایاں کامیابی ہے جس پر سیف سٹی ٹیم کو سراہا جا رہا ہے۔

ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی گم شدہ یا لاوارث شخص کی اطلاع دینے کے لیے پنجاب بھر میں ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کریں۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 'میرا پیارا' سروس کے لیے 15 پر کال کرنے کے بعد 3 کا بٹن دبائیں تاکہ بروقت کارروائی کے ذریعے بچھڑے ہوئے افراد کو ان کے پیاروں سے ملایا جا سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں