کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک راہگیر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ ایک موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہو گیا ہے۔ ریسکیو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کو ہسپتال منتقل کیا۔
پہلا افسوسناک واقعہ کراچی کے سپرہائی وے ٹول پلازہ کے قریب سروس روڈ پر پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم گاڑی نے سڑک عبور کرنے والے ایک راہگیر کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں 40 سالہ شخص موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی چھیپا کے رضا کار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور متوفی کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
پولیس کے مطابق حادثے کا سبب بننے والی گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ کے قریب موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے گاڑی اور ڈرائیور کی تلاش میں مصروف عمل ہیں۔
دوسرا حادثہ شہر کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 7 میں عائشہ مسجد کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں 30 سالہ موٹر سائیکل سوار شدید زخمی ہو گیا، جسے طبی امداد کے لیے جناح ہسپتال پہنچایا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے نوجوان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور ہسپتال میں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ تاحال زخمی شخص کی شناخت کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔
پولیس نے دونوں حادثات کے الگ الگ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات پر شہریوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ مصروف شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کے ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ سڑک پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ تیز رفتاری اور غیر محتاط ڈرائیونگ نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر راہگیروں کی زندگیوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
حکام کی جانب سے یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ بھاری ٹریفک کے لیے مخصوص اوقات اور راستوں کا تعین کیا جائے تاکہ گنجان آباد علاقوں میں حادثات کی شرح کو کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے ٹریفک مینجمنٹ پلان پر نظر ثانی کی جا رہی ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے، جہاں موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہوتی ہے۔ ایسے میں ڈرائیوروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثات کے بعد فرار ہونے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ناکہ بندیوں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔
عوام سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ اگر انہیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا کسی مشکوک سرگرمی کا علم ہو تو فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔ آپ کی بروقت اطلاع کسی کی جان بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں