برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بھارتی نوجوانوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مظاہرہ لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔
مظاہرے کا اہتمام بھارتی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام کیا گیا تھا، جہاں شرکا نے بھارتی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں طویل عرصے سے قائم حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام اور نوجوانوں کو سخت مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔
بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے دوران بھارتی وزیراعظم کے خلاف علامتی اور سخت نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بندر کے مجسمے اور پوتلے اٹھا رکھے تھے اور حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کس طرح بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہو کر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ اس مظاہرے کی ویڈیوز بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی کے گذشتہ بارہ سالہ اقتدار کے دوران بھارتی جمہوریت اور حکومتی طرزِ عمل پر کئی سوالات اٹھے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والا یہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مودی کی پالیسیوں کے خلاف آواز بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہے۔
اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا ایک معروف بھارتی طلبہ تنظیم ہے جو مختلف وقتوں میں طلبہ حقوق، تعلیمی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کا برطانیہ میں متحرک ہونا اور مظاہرہ کرنا ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ماضی میں بھی مختلف بھارتی گروپوں اور تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم طلبہ کی جانب سے اس انداز میں علامتی احتجاج نے سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔
بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت پر اکثر داخلہ اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نوجوانوں کا موقف ہے کہ تعلیمی اور روزگار کے مواقع میں کمی کی وجہ سے ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری قدروں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے منظم بدانتظامی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس صورتحال نے بھارتی جمہوریت کے کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ خصوصاً انڈیا ٹوڈے نے اس احتجاج کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرون ملک بھارتی تارکین وطن اور بالخصوص نوجوان نسل میں بھی بھارتی حکومت کے اقدامات پر تشویش پائی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی افراد نے مظاہرین کے جذبے اور اندازِ احتجاج کو سراہا جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر مختلف آرائیں ظاہر کی گئی ہیں۔
برطانیہ میں مقیم بھارتی طلبہ کے اس قدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی داخلی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
اس طرح کے بین الاقوامی مظاہرے بھارتی حکومت کے عالمی تاثر پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے نوجوانوں کے خدشات کو دور نہ کیا تو اس قسم کے احتجاج میں مزید شدت آ سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں