مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:57
بریکنگ
فرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیاراپر کرم اور غوز گڑھی میں پاک فوج کا افغان طالبان کی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جوابمغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کا یورپی سفارت کاروں کے وفد پر حملہپاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جوابی وارلندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاجچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کا دورہ ملتان، متعدد منصوبوں کا افتتاح کریں گیاسرائیلی کمپنیوں کا صحافیوں کی جاسوسی کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیامشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، پاکستان کا سعودی عرب کی سلامتی کے لیے عزم کا اعادہلاہور میں پولیس افسران کے بڑے پیمانے پر تبادلے، متعدد ایس ایچ اوز تعیناتوزارت اطلاعات نے امریکی بحریہ کے پاکستانی حدود سے کارروائیوں کے دعوے مسترد کر دیےاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گینادرا کا جدید موبائل رجسٹریشن سسٹم متعارف، شہریوں کو دہلیز پر سہولیات ملیں گیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو عہدے سے ہٹا دیافرانس میں مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ملک گیر احتجاج، لاکھوں شہری سڑکوں پرہنگری میں پاکستان کا پہلا رائس فیسٹیول، باسمتی چاول یورپی منڈیوں میں متعارفعالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟
دنیا

لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاج

برطانیہ کے دارالحکومت میں اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام مظاہرے کے دوران بھارتی وزیراعظم کی پالیسیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاج

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بھارتی نوجوانوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ یہ مظاہرہ لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔

مظاہرے کا اہتمام بھارتی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا کے زیر اہتمام کیا گیا تھا، جہاں شرکا نے بھارتی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں طویل عرصے سے قائم حکومت کی ناقص پالیسیوں نے عوام اور نوجوانوں کو سخت مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے دوران بھارتی وزیراعظم کے خلاف علامتی اور سخت نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بندر کے مجسمے اور پوتلے اٹھا رکھے تھے اور حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین کس طرح بھارتی ہائی کمیشن کے باہر جمع ہو کر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ اس مظاہرے کی ویڈیوز بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔

سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق نریندر مودی کے گذشتہ بارہ سالہ اقتدار کے دوران بھارتی جمہوریت اور حکومتی طرزِ عمل پر کئی سوالات اٹھے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والا یہ مظاہرہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مودی کی پالیسیوں کے خلاف آواز بیرون ملک بھی پہنچ چکی ہے۔

اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا ایک معروف بھارتی طلبہ تنظیم ہے جو مختلف وقتوں میں طلبہ حقوق، تعلیمی پالیسیوں اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کا برطانیہ میں متحرک ہونا اور مظاہرہ کرنا ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

لندن میں واقع بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ماضی میں بھی مختلف بھارتی گروپوں اور تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ تاہم طلبہ کی جانب سے اس انداز میں علامتی احتجاج نے سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر خاصی بحث چھیڑ دی ہے۔

بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت پر اکثر داخلہ اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔ نوجوانوں کا موقف ہے کہ تعلیمی اور روزگار کے مواقع میں کمی کی وجہ سے ان میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری قدروں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے منظم بدانتظامی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس صورتحال نے بھارتی جمہوریت کے کھوکھلے پن کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ خصوصاً انڈیا ٹوڈے نے اس احتجاج کی خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیرون ملک بھارتی تارکین وطن اور بالخصوص نوجوان نسل میں بھی بھارتی حکومت کے اقدامات پر تشویش پائی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز پر صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی افراد نے مظاہرین کے جذبے اور اندازِ احتجاج کو سراہا جبکہ کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر مختلف آرائیں ظاہر کی گئی ہیں۔

برطانیہ میں مقیم بھارتی طلبہ کے اس قدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی داخلی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں ہیں بلکہ عالمی سطح پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

اس طرح کے بین الاقوامی مظاہرے بھارتی حکومت کے عالمی تاثر پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے نوجوانوں کے خدشات کو دور نہ کیا تو اس قسم کے احتجاج میں مزید شدت آ سکتی ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں