مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں نے یورپی ممالک کے سفارت کاروں پر حملہ کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سفارت کاروں کا ایک وفد فلسطینی کسانوں کے ساتھ زیتون کی فصل کی کٹائی کے دوران اظہار یکجہتی کے لیے طیبہ کے علاقے میں موجود تھا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملہ آوروں نے سفارتی وفد کی گاڑیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ اس وفد میں فرانس، بیلجیئم اور پولینڈ کے سفارت کاروں کے علاوہ کیتھولک نمائندے بھی شامل تھے، جو فلسطینی کاشتکاروں کی صورتحال کا جائزہ لینے وہاں پہنچے تھے۔
عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق، تقریباً سات نقاب پوش آباد کار اے ٹی وی گاڑیوں پر سوار ہو کر موقع پر پہنچے اور سفارتی قافلے کو زبردستی روک لیا۔ حملہ آوروں نے سفارت کاروں سے ان کی شناختی دستاویزات طلب کیں اور پھر گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
اس حملے کے نتیجے میں بیلجیئم کے قونصل خانے کی ایک گاڑی کی کھڑکی ٹوٹ گئی۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں ایک سفارت کار کو زمین پر لیٹے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریووٹ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارت کاروں پر حملہ اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور یورپی یونین اس معاملے پر مزید پابندیوں پر غور کر سکتی ہے۔
طیبہ کے میئر نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آباد کاروں نے سفارت کاروں کو ہراساں کیا اور ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی فلسطینی کسانوں کے لیے ایک اہم معاشی اور ثقافتی سرگرمی ہے۔ تاہم، فصل کی کٹائی کے موسم میں فلسطینی کسانوں اور اسرائیلی آباد کاروں کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے اس طرح کے حملے ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن میں فلسطینیوں کی فصلوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ ان کی املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔
عالمی برادری اور یورپی یونین کی جانب سے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سفارت کاروں پر حملہ بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
یورپی سفارت کاروں کا یہ دورہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے تھا، جس کا مقصد عالمی توجہ ان مشکلات کی طرف مبذول کرانا تھا جن کا سامنا فلسطینی کسانوں کو اپنی زمینوں پر کاشتکاری کے دوران کرنا پڑتا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ مقامی فلسطینیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ادارے ان کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور آباد کاروں کی جانب سے ہونے والی جارحیت کا نوٹس لیں۔
یورپی یونین کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھیں گے اور اس واقعے کے بعد سفارتی سطح پر اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔





اپنی رائے دیں