یورپ کے مختلف ممالک میں نوجوانوں اور طلبہ کی جانب سے جاری احتجاجی مظاہروں نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ فرانس کے کئی بڑے شہروں میں مہنگائی اور تعلیمی معیار میں گراوٹ کے خلاف شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
پیرس، مارسی اور ٹولوز سمیت فرانس کے اہم شہروں میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ مشتعل افراد نے سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ کیا اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے پولیس اسٹیشنز، دکانوں اور سرکاری دفاتر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی ہے۔ پیرس میں وزارت تعلیم کی عمارت کو بھی آگ لگا دی گئی جس سے حکومتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
فرانسیسی شہر لیون میں سیاحتی دفتر کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا ہے، جس کے بعد سے شہر بھر میں کشیدگی برقرار ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
پولیس نے پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تقریباً 400 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوامی املاک کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب البانیہ کے دارالحکومت تیرانا میں بھی حکومت مخالف مظاہرے پانچویں روز میں داخل ہو چکے ہیں۔ طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں میں حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور روزگار کے مواقع کی کمی کے ذمہ دار وزیراعظم ایڈی راما فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ احتجاج کرنے والے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ معاشی بحران نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔
تیرانا میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ اس کے باوجود مظاہرین شہر کے مرکزی مقامات پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔
یورپی ممالک میں جاری ان احتجاجی لہروں نے حکومتی ایوانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر مذاکرات کا عمل شروع نہ ہوا تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ البانیہ میں بھی سیاسی قیادت صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم تاحال کسی بھی فریق کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
مظاہروں کے باعث ان شہروں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ تعلیمی ادارے بند ہیں اور تجارتی مراکز میں بھی کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں، جس سے معاشی نقصان کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین ان واقعات کو یورپ میں بڑھتے ہوئے سماجی عدم اطمینان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل نے نوجوان نسل کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کر دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں ان مظاہروں کا دائرہ کار مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔





اپنی رائے دیں