لاہور پولیس میں انتظامی امور کو بہتر بنانے اور تھانہ کلچر میں بہتری لانے کے لیے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اہم اقدامات اٹھاتے ہوئے شہر کے متعدد تھانوں کے ایس ایچ اوز کے تبادلے کر دیے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد پولیس کارکردگی کو مزید فعال بنانا ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سب انسپکٹر محمد رضوان کو پرانی انارکلی، رحمان خاور کو داتا دربار اور شبیر احمد کو ٹبی سٹی کا ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ ان افسران کو فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسی طرح حافظ حسن کو تھانہ شالیمار، محمد پرویز کو مستی گیٹ، جبکہ طالب حسین کو باٹا پور کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں کا فیصلہ میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
مزید برآں، انسپکٹر وقار حسین کو ڈیفنس سی، خرم شہزاد کو مناواں، ذوالقرنین ناز کو سول لائنز اور آصف فرید کو گجرپورہ تھانے کی کمان سونپی گئی ہے۔ یہ تبدیلیاں شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہیں۔
پولیس لائنز سے اسد شہزاد کو غازی آباد، عرفان محمود کو شاہدرہ اور رفیع اللہ کو اسلامپورہ کا ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ رضوان اصغر اب شاہدرہ ٹاؤن کے امور سنبھالیں گے، جبکہ محمد ندیم کو ساندہ تھانے کا ایس ایچ او مقرر کیا گیا ہے۔
انتظامی تبدیلیوں کے تسلسل میں محمد نعیم کو راوی روڈ، شجاع اللہ کو ملت پارک، فریاد اشرف کو جوہر ٹاؤن اور صفدر سجاد کو رنگ محل تھانے میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان افسران سے توقع کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں جرائم کے خاتمے کے لیے کام کریں گے۔
لیڈی سب انسپکٹر فرح مشتاق کو مصطفی آباد اور عزیر ارشد کو لیاقت آباد کا ایس ایچ او تعینات کیا گیا ہے۔ شہریار علی کو نیو انارکلی تھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان تمام افسران کو فوری طور پر نئی تعیناتی پر رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، شالیمار کے سابق ایس ایچ او علی حسن، لیاقت آباد کے زاہد محمود اور مصطفی آباد کے ملک اسد سمیت شاہدرہ ٹاؤن کے خرم شہزاد کو پولیس لائنز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ ہے۔
لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے تمام افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں عوام کی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنائیں۔ پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
شہر کے مختلف تھانوں میں ہونے والی ان تبدیلیوں سے پولیس کے نچلی سطح کے نظام میں بہتری متوقع ہے۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے ان افسران کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جائے گی تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تبادلے انتظامی ضرورت کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ تھانوں کی سطح پر پولیسنگ کے معیار کو بہتر کیا جا سکے۔ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں۔
لاہور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ نئی تعیناتیوں کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ تھانوں میں آنے والے سائلین کی مشکلات میں کمی آئے گی اور پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہوگا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے تمام نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز کو تاکید کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں گشت کے نظام کو مزید موثر بنائیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہ کریں۔





اپنی رائے دیں