مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 10:57
بریکنگ
سعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہسول افسران سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فرائض انجام دیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہاسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکمموسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہعارف والا میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروعپنجاب میں اسموگ کے تدارک کیلئے اینٹی اسموگ گن ٹیکنالوجی کا دائرہ کار وسیعلاہور میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں ردوبدل، تازہ ریٹ لسٹ جاریکراچی: منکی پاکس پھیلانے والا غیر قانونی ہسپتال سیل، عملے کی مزاحمت ناکاممشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہو گیااوور 50 کرکٹ ورلڈ کپ: پاکستان کی بھارت میں شرکت سے معذرت
صحت

کراچی: منکی پاکس پھیلانے والا غیر قانونی ہسپتال سیل، عملے کی مزاحمت ناکام

کورنگی میں نومولود بچے میں وائرس کی تصدیق کے بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے کارروائی کرتے ہوئے غیر مستند طبی مرکز کو بند کر دیا۔

کراچی: منکی پاکس پھیلانے والا غیر قانونی ہسپتال سیل، عملے کی مزاحمت ناکام

کراچی کے علاقے کورنگی میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ایک نجی طبی مرکز کو سیل کر دیا ہے، جس پر منکی پاکس (ایم پاکس) وائرس پھیلانے کا سنگین الزام ہے۔ یہ کارروائی محکمہ صحت کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات اور ایک نومولود بچے میں وائرس کی تصدیق کے بعد عمل میں لائی گئی۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، کورنگی کے علاقے میں ایک 20 روزہ نومولود بچے میں منکی پاکس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر کی جانب سے کی گئی ابتدائی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ بچے کا ختنہ اسی غیر قانونی مرکز میں کیا گیا تھا، جہاں استعمال ہونے والے طبی آلات آلودہ تھے۔

بچے کے طبی نمونے ڈاؤ لیبارٹری بھجوائے گئے تھے جہاں سے منکی پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی۔ اس رپورٹ کے بعد ضلعی صحت انتظامیہ نے فوری طور پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو آگاہ کیا، جس کے بعد کمیشن نے پولیس کی مدد سے مذکورہ مرکز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔

کارروائی کے دوران جب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے ہسپتال پہنچ کر اسے سیل کرنے کی کوشش کی تو وہاں موجود غیر مستند عملے اور اتائیوں نے شدید مزاحمت کی۔ عملے نے اپنے دفاع میں دیگر ساتھیوں کو بھی موقع پر طلب کر لیا تاکہ کارروائی کو روکا جا سکے۔

تاہم، ضلعی پولیس انتظامیہ کی بروقت مداخلت اور تعاون سے مزاحمت کرنے والوں کے ارادے ناکام بنا دیے گئے۔ پولیس کی موجودگی میں کمیشن کے حکام نے ہسپتال کا مکمل جائزہ لیا، جس کے دوران وہاں صفائی کے ناقص انتظامات اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی دیکھی گئی۔

ابتدائی معائنے سے یہ بات واضح ہوئی کہ ہسپتال غیر قانونی طور پر چلایا جا رہا تھا اور وہاں غیر تربیت یافتہ عملہ طبی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ کارروائی کے دوران ہسپتال کا عملہ اور دیگر ذمہ داران موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طبی سرگرمیوں اور آلودہ آلات کے استعمال سے عوامی صحت کو شدید خطرات لاحق تھے۔ اس طرح کے مراکز انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں، جن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ نومولود بچے کی صحت کے حوالے سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طبی عمل کے لیے صرف مستند اور رجسٹرڈ ہسپتالوں کا انتخاب کریں تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ شہر میں غیر قانونی طبی مراکز کی موجودگی اور ان کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے حوالے سے ایک بڑی تنبیہ ہے۔ محکمہ صحت نے اب شہر بھر میں ایسے غیر قانونی مراکز کے خلاف سخت نگرانی اور کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نجی ہسپتال یا کلینک کو بغیر رجسٹریشن اور معیاری طبی سہولیات کے چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیشن کی ٹیمیں اب مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر غیر قانونی مراکز کی نشاندہی کر رہی ہیں۔

اس واقعے نے طبی حلقوں میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ماہرین صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ ختنہ جیسی سرجیکل پروسیجرز کے لیے صرف جراثیم سے پاک آلات اور مستند ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی جائیں۔ انفیکشن کا پھیلاؤ روکنا ہی صحت عامہ کی اولین ترجیح ہے۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ فرار ہونے والے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جلد ہی ان عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی ایسی غفلت کا مرتکب نہ ہو سکے۔

شہر کے دیگر علاقوں میں بھی محکمہ صحت کی جانب سے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو نجی ہسپتالوں کے ریکارڈ اور ان کے طبی آلات کی صفائی کے معیار کو چیک کریں گی۔ عوام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک طبی مرکز کی اطلاع فوری طور پر کمیشن کو دیں۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں