پنجاب میں اسموگ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صوبائی حکومت نے اینٹی اسموگ گن ٹیکنالوجی کے استعمال کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ماحول کو صاف ستھرا بنانا اور شہریوں کو سانس کے امراض سے محفوظ رکھنا ہے۔
محکمہ ماحولیات پنجاب کے حکام کے مطابق لاہور کے بعد اب گوجرانوالہ میں بھی اینٹی اسموگ گنز کا باقاعدہ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شیخوپورہ، فیصل آباد اور ملتان میں بھی جلد ہی ان جدید مشینوں کو نصب کر کے آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔
ڈی جی ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ کی نگرانی میں صوبہ بھر میں آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت فیلڈ انفورسمنٹ اور کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسموگ کے تدارک کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور فیلڈ ٹیموں کی کارروائیوں کو مربوط کیا گیا ہے۔
صوبہ بھر میں صنعتی یونٹس کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 270 یونٹس کی انسپکشن کی گئی۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر 7 صنعتی یونٹس کو سیل کر دیا گیا جبکہ مجموعی طور پر 16 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
اسی طرح اینٹوں کے بھٹوں کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ محکمہ ماحولیات نے 443 بھٹوں کا معائنہ کیا جس کے دوران 7 بھٹے مسمار اور 4 سیل کیے گئے۔ خلاف ورزی کرنے والے بھٹہ مالکان کو 19 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا اور ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا۔
غیر معیاری پلاسٹک کے خلاف جاری مہم کے دوران 227 مقامات کی چیکنگ کی گئی ہے۔ اس دوران 9 مقامات کو سیل کرنے کے ساتھ ساتھ 840 کلوگرام غیر معیاری پلاسٹک ضبط کیا گیا اور ذمہ داروں پر 97 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
شہروں میں باربی کیو اور کمرشل ککنگ پوائنٹس سے نکلنے والے دھوئیں کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام نے 104 مقامات کی انسپکشن کی، 48 مقامات پر سکشن ہڈز نصب کرائے اور 10 پوائنٹس کو سیل کر کے 60 ہزار روپے جرمانہ وصول کیا۔
سڑکوں پر اڑتی دھول کو روکنے کے لیے بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 14 مقامات کی انسپکشن کی گئی، ایک مقام سیل کیا گیا جبکہ 2 مقامات پر پانی کے چھڑکاؤ کے لیے سپرنکلرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔
ڈی جی ماحولیات کے مطابق آلودگی پھیلانے والوں کی نگرانی کے لیے جدید ذرائع کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرون کیمروں، نائٹ اسکواڈز اور ہاک آئی اسکواڈز کی مدد لی جا رہی ہے تاکہ رات کے اوقات میں بھی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسموگ کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات کا مقصد شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا ہے۔ فیلڈ انفورسمنٹ ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
لاہور شہر کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر شہریوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ ماحولیات نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آلودگی پھیلانے والے عوامل کی نشاندہی میں تعاون کریں۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اینٹی اسموگ گنز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اسموگ کے ذرات کو ہوا میں معلق ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ان اقدامات سے فضائی معیار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے اسموگ کو ایک قومی چیلنج قرار دیا ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں کارروائیوں کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا تاکہ سردیوں کے موسم میں اسموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔




اپنی رائے دیں