سرطان ایک ایسی پیچیدہ بیماری ہے جس میں انسانی خلیوں کی بے قابو افزائش صحت مند بافتوں کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ مرض نہ صرف مریض کے لیے جسمانی اذیت کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے پورے خاندان کو خوف، بے بسی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2022 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ افراد سرطان کے باعث لقمہ اجل بنے۔ یہ اعداد و شمار صرف ہندسے نہیں بلکہ ان خاندانوں کی کہانی ہیں جو علاج کے بھاری اخراجات اور پیاروں کی جدائی کے صدمے سے گزرتے ہیں۔
اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین کو بروقت تشخیص کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔ تاہم، سرطان کی حقیقت چھاتی کے سرطان سے کہیں زیادہ وسیع ہے اور یہ جسم کے مختلف اعضا کو متاثر کرتی ہے۔
جدید سائنس نے سرطان کے علاج میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ سرجری، کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور ٹارگٹڈ تھراپی جیسے طریقوں نے بہت سے مریضوں کے لیے زندگی کی نئی امید پیدا کی ہے۔ بروقت تشخیص اور جدید علاج کی بدولت اب کئی مریض معمول کی زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں سرطان کا علاج ایک بڑا معاشی چیلنج ہے۔ مہنگے تشخیصی ٹیسٹ، ادویات اور ہسپتال کے اخراجات غریب خاندانوں کو قرض کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے مریض علاج میں تاخیر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے۔ بڑے شہروں اور دیہی علاقوں کے درمیان طبی سہولیات کا فرق واضح ہے، جہاں دیہی آبادی کے لیے ماہر ڈاکٹروں اور جدید مراکز تک رسائی انتہائی مشکل اور مہنگی ثابت ہوتی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی سہولیات کو بہتر بنائیں۔ مستحق مریضوں کے لیے ادویات کی مفت یا رعایتی فراہمی اور علاج کے اخراجات میں حکومتی معاونت اس مرض کے خلاف جنگ میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
سرطان کا مقابلہ کرنے کے لیے سائنسی تحقیق کے ساتھ ساتھ سماجی شعور بھی ضروری ہے۔ بیماری کو چھپانے کے بجائے اس کا سامنا کرنا اور بروقت طبی مشورہ لینا ہی اس مرض سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔
بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ سماج میں پھیلتی ہوئی ناانصافی اور بدعنوانی بھی ایک قسم کے 'سماجی سرطان' کی مانند ہے جو معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائیں تو عام آدمی کے لیے علاج جیسی بنیادی سہولتیں بھی خواب بن جاتی ہیں۔
ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ صحت کو ایک بنیادی انسانی حق سمجھا جائے۔ جب تک علاج تک رسائی صرف استطاعت رکھنے والوں تک محدود رہے گی، تب تک سماجی ناہمواری کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔
صحافت کا کردار اس ضمن میں انتہائی اہم ہے کہ وہ سائنسی شواہد پر مبنی معلومات عام کرے۔ علاج کے غیر حقیقی دعووں کے بجائے مریضوں کو مستند طبی رہنمائی فراہم کرنا اور حکومتی سطح پر صحت کے نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرنا صحافت کی ذمہ داری ہے۔
انسانیت کی اصل کامیابی صرف نئی ادویات کی دریافت میں نہیں، بلکہ ایسے نظام کی تشکیل میں ہے جہاں ہر انسان کو عزت کے ساتھ زندہ رہنے اور علاج کروانے کا حق حاصل ہو۔ اس کے لیے ریاست، جامعات اور سماجی تنظیموں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی سماجی برائی یا بیماری کو ناقابلِ علاج قرار دینا درست نہیں۔ مستقل مزاجی، اجتماعی کوششوں اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے معاشرے کو زیادہ منصفانہ اور صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔




اپنی رائے دیں