اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک انتہائی افسوسناک اور سنگین کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مرتکب مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد سہیل نے کیس کی سماعت مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم افتخار پر الزام ثابت ہوا کہ اس نے اپنی سوتیلی بیٹی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے مجرم کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے جو سرکاری خزانے میں جمع ہوگا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرہ لڑکی کو دس لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ، زیادتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کی کفالت اور پرورش کے لیے مجرم کو مزید بیس لاکھ روپے کی رقم ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق مجرم اپنی سوتیلی بیٹی کی والدہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک طویل عرصے تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔ یہ سلسلہ تقریباً ایک سال تک جاری رہا جس کے بعد حقیقت سامنے آئی۔
اس کیس میں اہم پیش رفت پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ڈی این اے رپورٹ سے ہوئی۔ فرانزک ٹیسٹ کے دوران پیدا ہونے والے بچے کا ڈی این اے مجرم افتخار سے میچ کر گیا، جس نے کیس میں ٹھوس سائنسی شواہد فراہم کیے اور مجرم کے جرم کو ثابت کیا۔
واقعے کا مقدمہ فروری 2025 میں متاثرہ لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا جس کے بعد ٹرائل کا عمل شروع ہوا اور آج عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔
عدالتی فیصلے کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ جیسے جدید سائنسی طریقوں سے ایسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانا آسان ہو گیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مجرمان کے خلاف سخت ترین سزاؤں کا نفاذ معاشرے میں خوف اور عبرت کا باعث بنتا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
سماجی حلقوں نے بھی عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین جرائم میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور عدالت کا یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی ایک بڑی علامت ہے۔
مذکورہ کیس میں پراسیکیوشن نے عدالت کے سامنے تمام شواہد اور گواہان پیش کیے جن کی روشنی میں جج نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہے۔
پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی جانب سے ایسے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتیں بھی قائم کی گئی ہیں تاکہ متاثرین کو جلد انصاف مل سکے۔
تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے اس کیس کی تفتیش میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔ فرانزک شواہد کے ساتھ ساتھ دیگر گواہیوں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا جس سے مجرم کے خلاف کیس مضبوط ہوا اور اسے سزا سنائی گئی۔
متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ اداروں نے بھی کردار ادا کیا۔ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف آواز اٹھائے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرے۔




اپنی رائے دیں