مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 11:37
بریکنگ
سعودی اتحادی افواج کا مدینہ منورہ کی جانب آنے والے 4 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰامریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کی مقبولیت نچلی ترین سطح پر پہنچ گئیلاہور: نشتر کالونی میں مضر صحت دودھ پینے سے دو سالہ بچہ جاں بحقپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاریراجن پور میں المناک حادثہ، مسافر بس الٹنے سے 8 افراد جاں بحقٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہعرفات منہاس کی کارکردگی پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل ہے، حسن نوازایکواڈور کے مشہور جڑے ہوئے جڑواں بھائی 27 برس کی عمر میں انتقال کر گئےملتان: چائلڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر دو افراد کے خلاف مقدمات درجوزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقاتیوٹیوبر رجب بٹ اور ایمان فاطمہ کے درمیان ازدواجی تنازع شدت اختیار کر گیاسول افسران سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فرائض انجام دیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہاسلام آباد: سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکمموسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہعارف والا میں موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع
کاروبار

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی چین کے خدشات اور بحیرۂ احمر کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی تجارتی مراکز میں خام تیل کے نرخوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے، جس سے توانائی کے عالمی بحران کے حوالے سے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر اور 21 سینٹ کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی فی بیرل قیمت 110 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی خام تیل، جسے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کہا جاتا ہے، کی قیمتوں میں بھی ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 99 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور خطے میں جاری کشیدگی نے تیل کی نقل و حمل کے راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو لاحق ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھی عالمی منڈی میں خدشات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے خریداروں کی جانب سے احتیاط برتی جا رہی ہے اور طلب و رسد کا توازن متاثر ہو رہا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی حالات مزید کشیدہ ہوئے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دنیا بھر کے ممالک پر پڑتا ہے کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی سے پیٹرولیم مصنوعات کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہوتا ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل پر بوجھ ڈالتا ہے، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔

حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں عدم استحکام دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ کبھی سپلائی چین میں رکاوٹیں تو کبھی عالمی سطح پر طلب میں اچانک اضافہ رہا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ عارضی ہے یا طویل مدتی، اس کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری اور بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حمل کی بحالی پر ہے۔

عالمی ادارے اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیمیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے اور قیمتوں کو ایک مستحکم سطح پر لایا جا سکے۔

مستقبل قریب میں خام تیل کی قیمتوں کا تعین عالمی سیاسی حالات اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے فیصلوں پر منحصر ہوگا، جس کے اثرات دنیا بھر کے صارفین پر مرتب ہوں گے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں