عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ہر قسم کی خوراک ایک مخصوص مدت کے بعد خراب ہو جاتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کئی غذائی اشیاء موجود ہیں جو مناسب حالات میں برسوں بلکہ غیر معینہ مدت تک محفوظ رہ سکتی ہیں۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق ان اشیاء کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے درجہ حرارت، نمی اور روشنی سے محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر ان بنیادی اصولوں کا خیال رکھا جائے تو گھر میں موجود کئی اشیاء کو طویل عرصے تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔
شہد ان غذاؤں میں سرفہرست ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اگر خالص شہد کو ہوا بند برتن میں نمی سے بچا کر رکھا جائے تو یہ برسوں تک اپنی اصلی حالت میں رہتا ہے۔ اس کا جم جانا یا رنگت کا گہرا ہونا خرابی کی علامت نہیں ہے۔
سفید چاول بھی طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ اگر انہیں ٹھنڈی اور خشک جگہ پر ہوا بند ڈبے میں رکھا جائے تو یہ کئی دہائیوں تک قابلِ استعمال رہتے ہیں۔ تاہم بھورے چاولوں میں موجود قدرتی تیل انہیں جلد خراب کر سکتا ہے۔
نمک اور چینی کو بھی طویل المیعاد ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ نمک کو نمی سے بچانا ضروری ہے، جبکہ چینی کو کیڑوں اور پانی سے دور رکھنا چاہیے۔ اسی طرح کارن اسٹارچ بھی مناسب طریقے سے محفوظ کرنے پر کئی برسوں تک خراب نہیں ہوتا۔
سرکہ اپنی تیزابی خصوصیات کی بدولت طویل عرصے تک محفوظ رہتا ہے اور اسے خراب ہونے والی اشیاء میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس کے رنگ میں معمولی تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن یہ کھانے کے لیے بالکل محفوظ رہتا ہے۔
خشک لوبیا بھی ایک ایسی غذا ہے جسے طویل عرصے تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کئی برس گزرنے کے بعد اس کا ذائقہ یا پکنے کی صلاحیت کچھ متاثر ہو سکتی ہے، لیکن مناسب حالات میں یہ طویل مدت تک استعمال کے قابل رہتا ہے۔
ان کے علاوہ سویا ساس، خشک پھل، پاپ کارن کے خشک دانے، انسٹنٹ کافی، خالص ونیلا ایکسٹریکٹ اور ملک پاؤڈر بھی نسبتاً طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی اشیاء ہیں۔
تاہم یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہر چیز کو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔ میپل سیرپ، کینولا آئل، ناریل کا تیل اور پروٹین پاؤڈر جیسی اشیاء کی ایک محدود شیلف لائف ہوتی ہے اور انہیں طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی چیز کا طویل عرصے تک محفوظ رہنا صرف اس کی نوعیت پر نہیں بلکہ پیکنگ اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر منحصر ہوتا ہے۔
صارفین کو چاہیے کہ وہ ڈبے میں بند اشیاء کے استعمال سے پہلے پیکنگ کا بغور جائزہ لیں۔ اگر ڈبہ پھولا ہوا ہو، اس سے کچھ رس رہا ہو یا وہ شدید زنگ آلود ہو تو ایسی چیز کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
کھانے کی کسی بھی چیز میں بدبو، غیر معمولی رنگت یا ذائقے میں واضح تبدیلی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ غذا اب استعمال کے قابل نہیں رہی۔ ایسی صورت میں صحت کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے ضائع کر دینا ہی بہتر ہے۔





اپنی رائے دیں