مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 4:18
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحاللاہور میں پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درجلاہور میں پولیس حراست میں موجود ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیاپنجاب پولیس کے سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس کل ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گےلاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑاپی آئی اے کا بوئنگ 777 طیاروں میں نئی بزنس کلاس سیٹیں نصب کرنے کا فیصلہامریکی سفارتخانے کی رپورٹس میں تبدیلیاں، نیتن یاہو حکومت کو بچانے کا انکشافبابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں سولہ ہزار رنز مکمل کر لیےکم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کا بڑھتا رجحان اور طبی خطراتپاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں راولپنڈی میں آمنے سامنےکراچی: رینجرز اور پولیس کا مشترکہ آپریشن، بین الصوبائی انسانی اسمگلر گرفتاردانش اسکول امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم کرنے کی کوشش ہے: شہباز شریفاسلام آباد میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر ہفتہ وار بازار غیرمعینہ مدت کے لیے بندپیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی میں داخلوں کا نیا ریکارڈ قائماسلام آباد کے اتوار بازار فائر سیفٹی انتظامات نہ ہونے پر بند، دکانداروں کا احتجاجکوئٹہ کی پولیو متاثرہ پلوشہ شہزادی نے ہائی کورٹ کی وکیل بن کر تاریخ رقم کر دیخیبرپختونخوا: سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے تعلیمی شعبہ زبوں حالی کا شکارآٹھ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے پریم وتس بینک خریدنے کے قریب
صحت

کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کا بڑھتا رجحان اور طبی خطرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوعمر بچوں میں پروٹین سپلیمنٹس کا استعمال شارٹ کٹ ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

کم عمر نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کا بڑھتا رجحان اور طبی خطرات

حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی کم عمر بچوں اور نوعمر نوجوانوں میں باڈی بلڈنگ اور پٹھے بنانے کے لیے پروٹین پاؤڈر اور سپلیمنٹس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چودہ سے پندرہ سال کی عمر کے اطفال اور نوجوان جسمانی ساخت کو بہتر بنانے کے لیے شارٹ کٹس کا سہارا لیتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے ان مصنوعات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر موجود مختلف اشتہارات اور جم میں غیر تربیت یافتہ افراد کے مشوروں سے متاثر ہو کر کم عمر بچے ان سپلیمنٹس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ صحت کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عمر کے بچوں کو اپنی روزمرہ اور قدرتی خوراک سے ہی مطلوبہ مقدار میں پروٹین مل جاتی ہے لہذا مصنوعی پاؤڈر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے وابستہ ماہر غذائیت زینب غیور کا کہنا ہے کہ کم عمری میں جسم کی قدرتی نشوونما ہو رہی ہوتی ہے اس لیے قدرتی پروٹین کا استعمال ہی بہترین عمل ہے۔ ان کے مطابق نو عمر بچے اکثر غیر مصدقہ افراد کی ہدایت پر سپلیمنٹس استعمال کر بیٹھتے ہیں جس سے انھیں جلد ہی صحت کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

طبی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ پروٹین پاؤڈر عام طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے لیے نہیں ہوتے اور اگر کسی طبی مجبوری کے تحت ڈاکٹر تجویز کریں بھی تو جسمانی صحت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ بچوں کو بغیر کسی طبی نسخے کے اس قسم کی غذائی اشیا سے گریز کرنا چاہیے۔

پروٹین ہمارے جسم میں ٹوٹ کر امینو ایسڈز میں تبدیل ہوتی ہے جو ٹشوز کی مرمت اور نشوونما کے لیے لازمی اجزا ہیں۔ جسم خود تمام ضروری امینو ایسڈز نہیں بنا سکتا اس لیے انھیں خوراک کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے تاہم متوازن غذا اس ضرورت کو باآسانی پورا کر دیتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق چکن، مچھلی، بکرے کا گوشت، انڈے اور بیف بہترین قدرتی پروٹین کے ذرائع ہیں جو اچھے پٹھے بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ ان غذاؤں کو سبزیوں اور دیگر فائبر سے بھرپور کھانوں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو کسی قسم کے مضر اثرات کا خطرہ نہیں رہتا۔

برطانیہ کے ماہرِ اطفال ڈاکٹر رمنک ماتھر کا کہنا ہے کہ جسم کو زنک، کیلشیم اور میگنیشیم جیسے مائیکرونیوٹرینٹس کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے جو عام کھانوں میں پائے جاتے ہیں۔ اگر کھانوں کی جگہ صرف پروٹین شیکس کا استعمال کیا جائے تو جسم ان اہم غذائی اجزا سے محروم ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر رمنک ماتھر خبردار کرتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ پروٹین جسم سے خارج کرنے کے لیے گردوں اور جگر کو اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس عمل سے ان اعضا پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے جو طویل المعناد میں سنگین طبی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

غذائی ماہر نکولا لڈلم رین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پروٹین پاؤڈر کی مارکیٹ پر ادویات کی طرح سخت قانونی نگرانی نہیں کی جاتی۔ اگرچہ چند معتبر ادارے معیار کو جانچتے ہیں لیکن اکثر مصنوعات میں اضافی چینی اور مصنوعی اجزا شامل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پروٹین شیک پینے سے کسی کے بازوؤں کے پٹھے خود بخود نہیں بن سکتے جب تک کہ باقاعدہ محنت اور متوازن غذا کا خیال نہ رکھا جائے۔ نوعمر لڑکیوں کے لیے بالخصوص آئرن اور کیلشیم کی مناسب مقدار بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔

پروٹین پاؤڈر کے زیادہ استعمال سے معدے میں گیس، پیٹ پھولنے، مروڑ اور اسہال جیسے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ جن نوجوانوں کو پہلے سے کوئی طبی عارضہ لاحق ہو، انھیں کسی ماہر ڈاکٹر یا رجسٹرڈ نیوٹریشنسٹ کے مشورے کے بغیر یہ مصنوعات ہرگز استعمال نہیں کرنی چاہئیں اور اپنی عام خوراک پر توجہ دینی چاہیے۔

نوجوانوں کی جسمانی نشوونما کے اس اہم دور میں والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی خوراک پر گہری نظر رکھیں۔ متوازن کھانوں اور قدرتی اجزا کے استعمال سے بچے نہ صرف صحت مند رہتے ہیں بلکہ وہ تمام ضروری غذائی اجزا بھی حاصل کر لیتے ہیں جو ان کی بڑھتی ہوئی عمر کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔

طبی و غذائی ماہرین کا حتمی مشورہ یہی ہے کہ نوجوان نسل کو شارٹ کٹس کے بجائے مستقل بنیادوں پر صحت مند عادات اپنانی چاہئیں۔ باقاعدہ ورزش کے ساتھ ساتھ گھر کا بنا ہوا صحت افزا کھانا ہی بہترین جسمانی نشوونما اور تندرستی کی اصل ضمانت فراہم کرتا ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں