اسلام آباد میں ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر جہاد ازور نے پاکستان کے معاشی استحکام کے سفر کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے مشکل حالات کے باوجود بیرونی مالیاتی تحفظات کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔
جہاد ازور نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے لیے اب اگلا اہم مرحلہ معاشی استحکام کو پائیدار اور طویل مدتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید بہتر اور شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر نے تجویز دی کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے غیر منصفانہ طریقوں کو ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹیکس مراعات اور غیر ضروری چھوٹ میں کمی لانے پر زور دیا تاکہ محصولات کی وصولی کے نظام کو مزید مستحکم اور غیر جانبدار بنایا جا سکے۔
کانفرنس کے دوران اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کی ترجیحات میں عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور ترجیحی اخراجات کا تحفظ شامل ہے۔ ایک منصفانہ ٹیکس نظام ہی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی کا مقصد صرف مالیاتی اہداف کا حصول نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام کو معاشی سرگرمیوں اور قدر میں اضافے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر خزانہ نے ملکی معیشت کی بہتری کے حوالے سے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالیاتی خسارہ گزشتہ 22 برس کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل تین سال تک بنیادی بجٹ سرپلس حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق، محصولات میں 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت ان اعداد و شمار کو مزید بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ رہا ہے۔ پرچون فروشی، زراعت اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبوں میں ٹیکس کی وصولی کے اہداف تاحال توقعات کے مطابق حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے دوران زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کے اہداف بھی ہدف سے کم رہے۔ پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے زرعی ٹیکس کی وصولی میں بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ قومی خزانے کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ٹیکس نظام میں موجود تضادات کو دور کیا جائے۔ رئیل اسٹیٹ اور دیگر بااثر شعبوں سے ٹیکس کی منصفانہ وصولی معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔
حکومت کی جانب سے ٹیکس قوانین میں بہتری لانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کاروبار کو وسعت دینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔
پاکستان کی معاشی ٹیم کا ماننا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانے سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ اصلاحات طویل مدتی معاشی خود انحصاری کے لیے ضروری ہیں۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان نے جس طرح مشکل معاشی حالات کا مقابلہ کیا ہے، اس سے عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔





اپنی رائے دیں