مواد پر جائیں
بدھ، 21 اکتوبر 2026 10 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:37
بریکنگ
ٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سلمان خان کی سکیورٹی میں غیر معمولی اضافہحج و عمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل: بارڈر ہیلتھ سروسز کے سربراہ سمیت 3 افسران گرفتارفیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران: اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیالایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلبحکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہخیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغازسرطان کے خلاف جنگ: طبی تحقیق اور سماجی ذمہ داریوں کا تقاضاکراچی: سعید آباد پولیس ٹریننگ سینٹر میں چھت کا پلستر گرنے سے دو خواتین اہلکار زخمیپاکستان میں منصفانہ ٹیکس نظام کا قیام ناگزیر ہے، جہاد ازورانٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصویر میں نمبر 8 کی تعداد کتنی ہے؟ہندو برادری کا نوراتری کا تہوار مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت سے جاریلاہور: مین شام نگر روڈ پر ترقیاتی کام التواء کا شکار، شہریوں کو مشکلات کا سامناخیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہوفاقی حکومت کا قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہیمن: سرکاری فوج کے 700 سے زائد حملے، متعدد حوثی جنگجو ہلاکسعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کا حوثی حملوں کی شدید مذمت کا اعادہسینٹ کام نے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید کر دیکراچی: ڈملوٹی سے پانی کی فراہمی کا نیا منصوبہ، 10 ملین گیلن یومیہ پانی ملے گاکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس کے مبینہ مقابلے، 7 زخمیوں سمیت 12 ملزمان گرفتارسعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئیں
پاکستان

خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ

صوبائی حکومت نے وفاق اور دیگر ذرائع سے ملنے والی خطیر رقم کے درست استعمال کی جانچ پڑتال کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کر دیا ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کا دہشت گردی کی جنگ کے لیے ملنے والے 800 ارب روپے کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر صوبے کو ملنے والے 800 ارب روپے کے فنڈز کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ بھاری رقم کن منصوبوں اور کن مقاصد کے لیے خرچ کی گئی۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے اس حوالے سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو ملنے والی یہ خطیر رقم کوئی معمولی حیثیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو یہ جاننے کا مکمل حق حاصل ہے کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ کہاں خرچ ہوا۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ان فنڈز کے استعمال کی مکمل چھان بین کی جائے گی تاکہ یہ تعین ہو سکے کہ آیا یہ رقم واقعی امن و امان کی بحالی اور قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہوئی یا نہیں۔

ثمر ہارون بلور نے سابقہ ادوار میں جاری ہونے والے فنڈز پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان رقوم کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایک پائی کا حساب لیا جائے گا تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بہتری کے لیے ملنے والی امداد اور وفاقی گرانٹس کا درست استعمال صوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس آڈٹ کے بعد فنڈز کے استعمال کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا طویل عرصے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکزی محاذ رہا ہے، جس کے باعث وفاق اور دیگر اداروں کی جانب سے صوبے کو خصوصی مالی معاونت فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اب ان فنڈز کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی ٹیم ان تمام دستاویزات کا جائزہ لے گی جو گزشتہ برسوں کے دوران فنڈز کے اجراء اور ان کی تقسیم سے متعلق ہیں۔ اس تحقیقاتی عمل میں کسی بھی قسم کی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مالی نظم و ضبط کو بحال کرنا ہے۔ شفافیت کا یہ عمل صوبائی خزانے کی حفاظت اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو صوبے میں گڈ گورننس کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ آڈٹ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد فنڈز کے درست استعمال کے بارے میں تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا فنڈز کے غلط استعمال کے شواہد ملے تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکومت اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

قبائلی اضلاع کے عوام نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان علاقوں کی ترقی کے لیے مختص رقم اب صحیح معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوگی۔ شفافیت کا یہ مطالبہ کافی عرصے سے کیا جا رہا تھا۔

آنے والے دنوں میں آڈٹ کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام مالی ریکارڈ بروقت فراہم کریں۔ حکومت اس معاملے پر باقاعدگی سے پیش رفت سے عوام کو آگاہ رکھے گی۔

یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے مالیاتی شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے صوبے کے مالیاتی نظام میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ عوام کے پیسے کو صرف عوامی مفاد کے منصوبوں پر ہی خرچ کیا جائے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں