یمن کی مسلح افواج نے ملک کے مختلف حصوں میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑی اور مربوط فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں فوج نے 700 سے زائد حملے کیے ہیں جن میں باغیوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کارروائیوں کا مقصد حوثی جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو محدود کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واگزار کرانا ہے۔ اس دوران سیکڑوں باغی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
فوجی ترجمان کے مطابق کارروائیوں میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مضبوط ٹھکانوں اور اسلحہ بردار مورچوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باغیوں کے اجتماع کے مقامات اور ان کی رسد کے راستوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔
آپریشن میں یمنی فضائیہ کے جنگی طیاروں، جدید ڈرونز، فیلڈ آرٹلری، راکٹ لانچرز اور ماہر اسنائپر یونٹس نے حصہ لیا ہے۔ ان مربوط حملوں کے نتیجے میں باغیوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے اور وہ پسپائی پر مجبور ہیں۔
صوبہ تعز میں یمنی فورسز کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے جہاں باغیوں کی دفاعی لائنیں ٹوٹ چکی ہیں۔ حکومتی افواج نے اس اہم علاقے میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لی ہیں جس سے حوثیوں کی مزاحمت کمزور پڑ گئی ہے۔
مشرقی، جنوبی اور مغربی محاذوں پر بھی یمنی فوج نے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ ان علاقوں میں باغیوں کی اضافی نفری کی تعیناتی کو روکنے کے لیے سخت ناکہ بندی کی گئی ہے تاکہ ان کی کمک کے ذرائع کو مکمل طور پر کاٹا جا سکے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان فوجی کارروائیوں کے دوران صرف اور صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شہری آبادی اور اہم شہری تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں تاکہ نقصان نہ ہو۔
یمن میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری تنازع کے باعث ملکی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے۔ سرکاری فوج کی جانب سے حالیہ کارروائیاں اس عزم کا اظہار ہیں کہ ملک کے تمام حصوں میں ریاستی رٹ کو بحال کیا جائے گا اور باغیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔
فوجی ماہرین کے مطابق 700 سے زائد حملوں کا یہ سلسلہ یمن کی عسکری تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے حوثی باغیوں کی عسکری صلاحیتوں کو زبردست دھچکا لگا ہے اور ان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
مقامی سطح پر بھی ان کارروائیوں کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عام شہریوں کو باغیوں کے جبر سے نجات ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یمنی فوج کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے علاقوں کی مکمل آزادی کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے اب تک ان حملوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ انہیں شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کی پسپائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سرکاری فوج کی حکمت عملی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں یمنی فوج کی جانب سے مزید کارروائیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈال دیتے یا حکومتی عملداری کو تسلیم نہیں کرتے، تب تک یہ آپریشن اسی شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔
عالمی برادری بھی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یمن میں امن و امان کی بحالی کے لیے سرکاری فوج کی جانب سے کی جانے والی یہ کوششیں ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دی جا رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں