سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے کے عمل کو مزید تیز کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سعودی کمپنیوں کو خصوصی طور پر ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کو ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں فراہم کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں۔
پاکستانی اوورسیز ریکروٹمنٹ فرم کے چیئرمین نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سعودی مارکیٹ میں پاکستانی ورکرز کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اقدام دونوں برادر ممالک کے درمیان لیبر مارکیٹ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوگا۔
ریکروٹمنٹ فرم کے حکام کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد مختلف شعبہ جات میں ہنر مند اور غیر ہنر مند پاکستانی ورکرز کی شمولیت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات کو ماضی میں بھی ہمیشہ سراہا جاتا رہا ہے۔
اس پیش رفت سے پاکستان میں بے روزگاری کی شرح میں کمی لانے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی قوی توقع کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس فیصلے کو پاکستان کے لیے ایک نہایت مثبت معاشی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آئندہ دنوں میں مزید سعودی کمپنیاں پاکستانی ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر بھرتیوں کا باقاعدہ عمل شروع کریں گی۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات اور بھرتی کے طریقہ کار کا اعلان متعلقہ حکام کی جانب سے جلد متوقع ہے۔
سعودی عرب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے پیش نظر وہاں غیر ملکی افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان لیبر کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جو دونوں ممالک کے معاشی مفادات کے لیے اہم ہے۔
ریکروٹمنٹ فرم کے چیئرمین کے مطابق پاکستانی ورکرز اپنی محنت اور دیانتداری کی وجہ سے سعودی مارکیٹ میں خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی کمپنیاں اب پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
اس اقدام سے پاکستان سے بیرون ملک جانے والے ورکرز کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے جس سے ترسیلاتِ زر میں بھی بہتری آئے گی۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اس پالیسی کا اطلاق مختلف صنعتی اور تعمیراتی شعبوں میں کیا جائے گا۔ ان شعبوں میں ہنر مند افراد کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستانی افرادی قوت کو ترجیح دی جائے گی۔
پاکستان کی جانب سے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور متعلقہ وزارتیں اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی سعودی عرب کے ساتھ لیبر مارکیٹ کے حوالے سے رابطے جاری ہیں۔
آنے والے وقت میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کے لیے مزید مراعات اور سہولیات کا اعلان بھی متوقع ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور افرادی قوت کے تبادلے کے تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔

اپنی رائے دیں