پنجاب بھر کے تمام سرکاری سکولوں کے سکول انفارمیشن سسٹم یعنی ایس آئی ایس کے ڈیٹا کی تصحیح اور تصدیق کا عمل اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر مکمل کرنے کی سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت کے متعلقہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے تمام ایجوکیشن اتھارٹیز کو فوری نوعیت کے اقدامات اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کا نظام مزید بہتر بنایا جا سکے۔ تمام سرکاری سکولوں کے ڈیٹا کو سو فیصد درست اور مصدقہ بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے جس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کے داخلوں اور ان کے ذاتی کوائف کا مکمل ریکارڈ ترجیحی بنیادوں پر درست کیا جائے گا۔ ایس آئی ایس کے ڈیٹا میں موجود تمام جعلی یا ڈپلیکیٹ طلبہ کے اندراجات کو فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اصل صورتحال سامنے آ سکے۔ اس عمل سے سکولوں میں طلبہ کی اصل تعداد کا تعین کرنے میں مدد ملے گی اور وسائل کی تقسیم بھی بہتر طریقے سے ہو سکے گی۔
طلبا کے علاوہ سکولوں میں تعینات تدریسی اور غیر تدریسی عملے کا ریکارڈ بھی مکمل طور پر درست کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی حاضری، تعیناتی اور کوائف کو جدید ڈیجیٹل نظام کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ انتظامی امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں عملے سے متعلقہ نامکمل معلومات کو فوری طور پر درست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سکولوں کی عمارتوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بھی تفصیلی ڈیٹا طلب کر لیا گیا ہے جس میں خطرناک عمارتوں کی مکمل یا جزوی تفصیلات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تمام سکولوں کے کلاس رومز، باؤنڈری والز اور دیگر دستیاب بنیادی سہولیات کا ریکارڈ بھی درست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اسکولوں کی عمارات کی بہتری اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
صوبہ بھر کے تمام سرکاری سکولوں میں جماعتوں، سیکشنز اور طلبہ کی باقاعدہ تقسیم سے متعلق ڈیٹا کو بھی مکمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں میں پڑھائی کے معیار کو بہتر بنانے اور انتظامی امور کو باقاعدہ بنانے کے لیے اس ڈیٹا کی درستگی کو بنیادی شرط قرار دیا گیا ہے۔ ایجوکیشن اتھارٹیز کے سربراہان کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اس عمل کو عملی جامہ پہنائیں۔
تمام اضلاع کے سی ای اوز ایجوکیشن سمیت ایجوکیشن اتھارٹیز کے دیگر اعلیٰ سربراہان سے کہا گیا ہے کہ وہ دی گئی مدت میں ڈیٹا کی تصحیح اور تصدیق کا عمل مکمل کریں۔ مقررہ وقت کے اختتام پر تمام متعلقہ اداروں سے درست ریکارڈ پر مبنی جامع تصدیقی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد تعلیمی شعبے میں شفافیت لانا اور گورننس کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
صوبائی حکومت اور متعلقہ محکمے کی جانب سے جاری کردہ ان تازہ ہدایات کا بنیادی مقصد تعلیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اسکول انفارمیشن سسٹم کے ڈیٹا میں پائی جانے والی تمام خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف تعلیمی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کا درست استعمال بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
ایجوکیشن اتھارٹیز کے تمام حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام سکولوں کی مانیٹرنگ کریں۔ اس عمل کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت ڈیٹا کی تصحیح سے تعلیمی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی بڑی آسانی ہوگی۔
طلبہ کے اندراج کے حوالے سے ڈیجیٹل پورٹل پر موجود معلومات کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالنا اس حکم نامے کا اہم ترین حصہ ہے۔ بعض سکولوں میں طلبہ کی تعداد اور ریکارڈ میں تضاد پایا جاتا تھا جسے اب مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہو گا کہ کس سکول میں کتنے بچے باقاعدگی سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
اساتذہ اور ملازمین کی تفصیلات کی درستگی سے سکولوں میں عملے کی کمی یا زیادتی کا اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ اداروں میں عملہ ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے جبکہ دیگر میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔ ڈیجیٹل سسٹم کی درستگی کے بعد اس توازن کو بحال کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
عمارتوں کی خستہ حالی یا خطرناک ہونے کے جو معاملات سامنے آتے ہیں، ان کا درست تخمینہ لگانا بھی اس مہم کا حصہ ہے۔ جن عمارتوں کو جزوی یا مکمل خطرہ لاحق ہے ان کی تفصیلات سامنے آنے پر فوری مرمت یا تعمیر نو کے منصوبے بنائے جا سکیں گے۔
کلاس رومز اور چار دیواری جیسے بنیادی امور کی رپورٹنگ بھی سکولوں کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔ سیکشنز کی درست تقسیم سے طلبہ اور اساتذہ کا تناسب بھی بہتر طریقے سے برقرار رکھا جا سکے گا جو کہ معیاری تعلیم کے لیے نہایت ضروری ہے۔
تمام تعلیمی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت یعنی چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اپنی تمام رپورٹس متعلقہ حکام کو ارسال کریں۔ اس سخت ڈیڈ لائن کا مقصد تمام انتظامی امور کو فوری طور پر ایک اصول کے تحت لانا اور تعلیمی نظام کی بہتری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔





اپنی رائے دیں