پاکستان میں معاشی شعبے کی اہم پیشرفت کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کریں گے۔ اجلاس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی معاشی اشاریوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں کی کارکردگی پر غور کیا جائے گا تاکہ آئندہ مدت کے لیے درست فیصلے کیے جا سکیں۔
معاشی ماہرین کی جانب سے اس بار مانیٹری پالیسی میں مزید سختی لائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی معاشی دباؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے گزشتہ پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود کو گیارہ عشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر اس میں تبدیلی متوقع ہے۔
مختلف مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی ریٹ میں پچاس بیسز پوائنٹس یعنی صفر عشاریہ پانچ فیصد تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے اس مجوزہ اضافے کی باضابطہ منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد کی سطح تک پہنچ جائے گی۔
ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں ملک کے اندر ماہانہ مہنگائی بڑھنے کی شرح دس عشاریہ تین صفر فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی مرکزی بینک کے پاس تمام تر اعداد و شمار موجود ہیں جن کے تحت ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پینتیس کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر رہا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور افراطِ زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کا آج کا یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ملک کی تجارتی اور کاروباری برادری کی نظریں بھی مرکزی بینک کے اس اجلاس پر پوری طرح مرکوز ہیں کیونکہ شرح سود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا براہ راست اثر کاروباری لاگت اور سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔
مرکزی بینک ملک میں معاشی استحکام لانے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے آئین اور قواعد کے مطابق طویل المدتی اور قلیل المدتی بنیادوں پر اقدامات کرتا ہے۔
آج کے اس اہم اجلاس کے بعد باضابطہ اعلامیے یا پریس ریلیز کے ذریعے شرح سود سے متعلق حتمی فیصلوں کو عوام اور کاروباری طبقے کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ملک کی اگلی معاشی سمت کا تعین ہوگا۔
اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے سے ملک کے مالیاتی منڈیوں، بینکنگ سیکٹر اور عام شہریوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر تمام معاشی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اپنی رائے دیں