پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی مخدوش صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت نے آئینی و قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو معطل کر دیا ہے۔ گیارہ اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والے احکامات کے تحت صوبے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی، آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج اور آرٹیکل 245 کے تحت امن و امان کی بحالی کے لیے فوج کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے مطابق یہ اقدامات صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کے پیش نظر ناگزیر تھے۔ وفاقی کابینہ کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث ریاست کی رٹ متاثر ہو رہی تھی۔
گزشتہ کئی ہفتوں سے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان سیاسی محاذ آرائی جاری تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم فریقین کے درمیان کسی حتمی نتیجے پر اتفاق نہ ہو سکا اور مذاکرات تعطل کا شکار رہے۔
صوبے میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی شہادتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ سرحد پار سے دراندازی اور صوبے کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث عوام کا تحفظ یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ تیرہ برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہی ہے، جسے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ حاصل تھا۔ تاہم وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات نہ اٹھانے اور نیشنل ایکشن پلان پر عدم عمل درآمد کے باعث حالات سنگین ہو چکے تھے۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی اختیارات اب گورنر کے پاس منتقل ہو گئے ہیں، جس سے انتظامی امور میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے گی۔ وفاقی حکومت کے لیے اب یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنائے اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبائی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات کا مقصد صوبے میں امن کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کیے گئے یہ فیصلے قومی مفاد میں ہیں تاکہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آئے۔
صوبے کے عوام بھی امن و امان کی بحالی کے منتظر ہیں تاکہ معمول کی زندگی بحال ہو سکے۔ معیشت کی بہتری کے لیے بھی امن کا قیام ناگزیر ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت نے اب اپنی پوری توجہ مرکوز کر دی ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے مزید مشاورت متوقع ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں حالات معمول پر آئیں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہوگی۔
پاکستان کے آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت نے یہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان فیصلوں کا مقصد صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور سیکیورٹی اداروں کو مزید بااختیار بنانا ہے۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں سیاسی استحکام اور قومی سلامتی کے اداروں کا باہمی تعاون ہی واحد راستہ ہے۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ صوبے کے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔
آخر میں، یہ امید کی جا رہی ہے کہ تمام متعلقہ فریقین قومی مفاد کو پیش نظر رکھیں گے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے امن و امان کا قیام سب سے اہم ہے، جس کے لیے وفاقی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے پرعزم ہے۔




اپنی رائے دیں