سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر تفصیلات فراہم کیں۔
ترجمان نے بتایا کہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں، اہم تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی، تاہم سعودی دفاعی نظام نے ان حملوں کو بروقت ناکام بنا دیا ہے۔
میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے فائر کیے گئے متعدد میزائلوں اور راکٹ لانچرز کو فضا میں ہی کامیابی کے ساتھ تباہ کر دیا، جس سے کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے پہاڑی علاقوں میں حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے اسلحے کے 120 سے زائد ذخیرے تباہ کر دیے ہیں، جس سے ملیشیا کی عسکری طاقت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے بعض علاقوں سے حوثی ملیشیا کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے، جس کے بعد ان متاثرہ علاقوں سے مقامی آبادی کا محفوظ انخلا یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سعودی فوجی اتحاد نے حرمین شریفین کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ ماضی میں بھی جاری رہا ہے، جس کی عالمی سطح پر مذمت کی جاتی رہی ہے اور سعودی عرب اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے خطے کا امن و استحکام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد خطے میں سکیورٹی کے معاملات پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ سعودی فوج اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
سعودی فوجی اتحاد یمن میں امن کی بحالی کے لیے بھی کوشاں ہے، تاہم حوثی ملیشیا کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیزیوں نے امن عمل کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے فوجی کارروائیاں ناگزیر ہو جاتی ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت نے اپنے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ترجمان نے پریس کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ سعودی فوجی اتحاد خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے اور حوثی ملیشیا کی جانب سے کی جانے والی ہر جارحانہ کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔





اپنی رائے دیں