سعودی عرب نے یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسرائیلی شمولیت کی پیشکش کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔ یہ پیشکش اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے امریکہ کے توسط سے سعودی عرب کو کی گئی تھی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور خطے میں رابطوں کو وسعت دینا تھا۔ تاہم ریاض حکومت نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
برطانوی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس اسرائیلی درخواست کو یکسر مسترد کر دیا۔ غزہ میں جاری کشیدگی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
سعودی عرب نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی ٹھوس اور قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوتی، اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے جا سکتے۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ریاض کا یہ مؤقف فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے مطالبات کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا مظہر ہے۔ سعودی قیادت نے ماضی میں بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔
یمن کے معاملے پر سعودی عرب اپنی عسکری اور سیاسی حکمت عملی کے تحت فیصلے کرتا ہے اور اس میں کسی بھی بیرونی یا بالواسطہ اسرائیلی مداخلت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلہ خطے میں سعودی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کا عکاس ہے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو حکومت اس پیشکش کے ذریعے سفارتی تنہائی کو ختم کرنے اور اہم عرب ممالک کے ساتھ تعلقات جوڑنے کی خواہاں تھی۔ مگر ریاض نے اس قسم کے کسی بھی حربے کو ناکام بنا دیا۔
غزہ کی جنگ کے آغاز سے ہی عرب دنیا اور اسرائیل کے تعلقات میں شدید سرد مہری آئی ہے۔ بیشتر عرب ممالک نے اسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی ہے اور دو ریاستی حل کے بغیر کسی بھی قسم کے معمول کے تعلقات سے انکار کیا ہے۔
سعودی عرب کا یہ واضح مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل بنیادی شرط ہے۔ ریاض نے بین الاقوامی سطح پر ہمیشہ فلسطینی کاز کی بھرپور حمایت کی ہے۔
خطے کے تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے اس پیشکش کا رد کیا جانا اس بات کا غماز ہے کہ مملکت اپنی اصولی پالیسیوں پر قائم ہے۔ معاشی اور سکیورٹی امور میں بھی فلسطینی حقوق کو مقدم رکھا جا رہا ہے۔
امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں تعلقات کی بہتری کے لیے کوششیں کی جاتی رہی ہیں، لیکن سعودی حکام نے ہر بار اس بات کو واضح کیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی پامالی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
یمن میں امن کے قیام کے لیے سعودی عرب پہلے ہی مختلف سفارتی ذرائع اور یمنی فریقین کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں مصروف ہے۔ اس تناظر میں کسی اسرائیلی حمایت یا مداخلت کی ضرورت کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا۔
اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی اس پیشکش کو سفارتی حلقوں میں ایک سیاسی چال کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو بہتر بنانا تھا۔ تاہم سعودی عرب نے اس سفارتی چال کو یکسر مسترد کر دیا۔
مستقبل میں بھی سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے خدوخال فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط دکھائی دیتے ہیں۔ ریاض حکومت نے دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ خطے میں حقیقی امن کے بغیر تعلقات کی بحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔





اپنی رائے دیں