کراچی کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ناگہانی حادثات کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ تمام متوفیان کی لاشیں قانونی کارروائی اور ضابطے کی کارروائی کے لیے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جہاں پولیس حکام کی جانب سے واقعاتی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
پہلا واقعہ کراچی کے مصروف ترین علاقے کینٹ اسٹیشن کے قریب پیش آیا جہاں ایک ٹرین کی زد میں آ کر اکیلا بزرگ شہری موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور ریسکیو اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنہوں نے لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والے بزرگ شہری کی عمر لگ بھگ پینسٹھ سال کے قریب بتائی جاتی ہے تاہم فوری طور پر ان کی شناخت کا عمل مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ واقعے کے بعد پولیس اور متعلقہ حکام نے لاش کو جناح اسپتال منتقل کر دیا جہاں تمام ضروری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
کینٹ ریلوے پولیس نے اس اندوہناک واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ متوفی کے ورثا کا سراغ لگایا جا سکے اور حادثے کے اسباب معلوم کیے جا سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک کے اردگرد حفاظتی انتظامات اور نقل و حرکت کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
شہر میں پیش آنے والا دوسرا حادثہ بلدیہ سعید آباد کے علاقے میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب پیش آیا جہاں ایک گھر کے اندر پراسرار طور پر سریا لگنے سے ایک نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس افسوسناک واقعے کی اطلاع ملتے ہی چھیپا کے رضا کار فوراً جائے وقوعہ پر روانہ ہو گئے۔
چھیپا حکام کے مطابق اس دوسرے حادثے میں جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت تیس سالہ اسامہ کے نام سے کر لی گئی ہے جو گھر کے اندر ہی پیش آنے والے ایک ناگہانی حادثے کی زد میں آ گیا۔ رضا کاروں نے فوری طور پر متوفی کی لاش کو سول اسپتال منتقل کیا تاکہ طبی و قانونی کارروائی کی جا سکے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تیس سالہ اسامہ سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا کہ اسی دوران اس کے سینے پر ایک سریا پیوست ہو گیا جو اس کی موت کا سبب بنا۔ پولیس اس اندوہناک حادثے کے ہر پہلو سے باریک بینی کے ساتھ تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔
کراچی جیسے بڑے اور گنجان آباد شہر میں اس قسم کے حادثات روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں جن میں حفاظتی انتظامات کی عدم دستیابی نمایاں ہوتی ہے۔ شہری حلقوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے دونوں واقعات کے حوالے سے الگ الگ تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اسپتال میں ضروری ضابطے پورے کرنے کے بعد لاشیں قانونی ورثا کے حوالے کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا عزم ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
شہر میں ہونے والے ان دونوں دلخراش واقعات نے مکینوں کو سوگوار کر دیا ہے اور ہر طرف حفاظتی اقدامات کی کمی پر بحث جاری ہے۔ پولیس حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے شہریوں کو بھی انتہائی احتیاط برتنی چاہیے تاکہ قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
ریلوے پولیس کے مطابق کینٹ اسٹیشن کے قریب پیش آنے والے واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور قریبی علاقوں میں مسافروں اور رہائشیوں سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ متوفی بزرگ شہری کی اصل شناخت جلد از جلد سامنے لائی جا سکے اور ورثا کو اطلاع دی جا سکے۔
بلدیہ سعید آباد کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بلدیہ سعید آباد پولیس اسٹیشن کے اہلکار بھی موقع پر موجود رہے اور انہوں نے گھر کے اندر سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
عوام کی جانب سے ریسکیو اداروں اور پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا گیا ہے جنہوں نے لاشوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا تاکہ کسی بھی تاخیر کے بغیر قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس قسم کے حادثات کے خلاف حفاظتی آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔





اپنی رائے دیں