عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی موسیقی کی تاریخ میں اہمیت رکھنے والی مشہور سرخ اور سیاہ رنگ کی ’تھرلر‘ جیکٹ ایک بار پھر نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ یہ نیلامی رواں سال دسمبر میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی میں منعقد کی جائے گی۔
جولینز آکشنز کے زیر اہتمام ہونے والی اس نیلامی کو ’مائیکل جیکسن: دی فیشن لیگیسی ایوننگ آکشن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تقریب 7 سے 9 دسمبر 2026 تک روزوُڈ ابوظبی میں منعقد ہوگی، جس میں گلوکار کے 100 سے زائد ملبوسات اور یادگار اشیا نمائش کے لیے رکھی جائیں گی۔
’تھرلر‘ میوزک ویڈیو کے لیے ایسی صرف دو جیکٹیں تیار کی گئی تھیں جن کا ڈیزائن معروف ڈیزائنر ڈیبورا نڈولمین لینڈس نے تخلیق کیا تھا۔ ان میں سے ایک جیکٹ زومبی رقص کے دوران استعمال ہونے سے گھس گئی تھی، جبکہ دوسری جیکٹ اب نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
اس جیکٹ کی آستین پر مائیکل جیکسن کے دستخط موجود ہیں۔ گلوکار نے یہ جیکٹ اپنے دیرینہ ملبوسات کے ڈیزائنرز ڈینس ٹامپکنز اور مائیکل بش کو دی تھی۔ جون 2011 میں یہ جیکٹ 18 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی، جس نے اس وقت دنیا کی سب سے مہنگی نیلام ہونے والی جیکٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
نیلام گھر کے حکام کے مطابق، اس بار نیلامی میں مائیکل جیکسن کا وہ مشہور چمک دار دستانہ بھی شامل ہوگا جو انہوں نے 1983 میں ’موٹاؤن 25: یسٹرڈے، ٹوڈے، فارایور‘ کی پرفارمنس کے دوران پہنا تھا۔ اس دستانے کی قیمت 6 سے 8 لاکھ ڈالر کے درمیان متوقع ہے۔
نیلامی میں شامل دیگر اہم اشیا میں گلوکار کے فلورشائم برانڈ کے سیاہ لوفر جوتوں کے دو جوڑے بھی شامل ہیں۔ ایک جوڑا ’موٹاؤن 25‘ کی پرفارمنس جبکہ دوسرا ’تھرلر‘ میوزک ویڈیو میں استعمال کیا گیا تھا۔ ان جوتوں کے ساتھ کوریوگرافر مائیکل پیٹرز کے نام لکھا گیا گلوکار کا دستخط شدہ خط بھی موجود ہے۔
جولینز آکشنز کے شریک بانی مارٹن نولان کا کہنا ہے کہ دنیا نے اس جیکٹ کے بارے میں بات کرنا کبھی بند نہیں کیا۔ یہ نیلامی پاپ کلچر کے مداحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ ثابت ہوگی۔
یاد رہے کہ 2011 میں ہونے والی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ جانوروں کے تحفظ کے مرکز شمبالا پریزرو کو دیا گیا تھا۔ اس مرکز میں مائیکل جیکسن کے بنگال ٹائیگرز بھی رکھے گئے تھے، جن میں سے ایک شیر کا نام بھی ’تھرلر‘ رکھا گیا تھا۔
ابوظبی کے جزیرے الماریہ پر واقع روزوُڈ ہوٹل میں ہونے والی یہ نیلامی مائیکل جیکسن کی فنی زندگی کے اہم ترین لمحات کو ایک بار پھر تازہ کرے گی۔ شائقین اور جمع کرنے والے افراد اس تقریب کے لیے خاصی دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مائیکل جیکسن کی جانب سے 1983 میں پیش کیا گیا ’مون واک‘ رقص آج بھی موسیقی کی دنیا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے ملبوسات اور استعمال شدہ اشیا کی نیلامی ان کی فنی میراث کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ نیلامی نہ صرف موسیقی کے مداحوں کے لیے اہم ہے بلکہ فیشن اور تاریخ کے شائقین بھی اس میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ ابوظبی میں ہونے والی یہ تقریب بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
نیلام گھر کی انتظامیہ نے اس ایونٹ کو اپنے ’سیلیبریٹی اینڈ پاپ کلچر ایکسپیرینس‘ کا حصہ قرار دیا ہے۔ توقع ہے کہ اس نیلامی سے حاصل ہونے والی اشیا کی قیمتیں ماضی کے ریکارڈز کو ایک بار پھر چیلنج کر سکتی ہیں۔
مائیکل جیکسن کے مداحوں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ فنکار کی ان نایاب اشیا کو قریب سے دیکھ سکیں یا انہیں اپنی کلیکشن کا حصہ بنا سکیں۔ دسمبر میں ہونے والی یہ نیلامی دنیا بھر میں خبروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔





اپنی رائے دیں