برازیل کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کے دورے کے دوران پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف اور سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔
ان ملاقاتوں میں دفاعی تعاون کے فروغ، پیشہ ورانہ تبادلوں اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
ترجمان پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق نیول ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی ملاقات میں علاقائی بحری سلامتی کے امور زیر بحث لائے گئے۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور برازیل کے مابین بحری شعبے میں تعاون بڑھانے کے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا، اور دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تربیتی پروگراموں کے انعقاد اور باہمی دوروں کے تسلسل کو برقرار رکھ کر دونوں ملکوں کی بحری افواج ایک دوسرے کے تجربات سے بھرپور استفادہ کر سکتی ہیں۔
مشترکہ بحری مشقوں کے انعقاد کو دونوں بحری افواج کے مابین ہم آہنگی اور آپریشنل صلاحیتیں بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ قرار دیا گیا، جس سے سمندر میں امن برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
برازیلی وفد کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان نیوی کی جانب سے شروع کیے جانے والے ریجنل میری ٹائم سکیورٹی پیٹرولز اقدام کی بھرپور تحسین کی اور اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے علاقائی استحکام اور میری ٹائم سکیورٹی کے فروغ کے لیے پاک بحریہ کے کلیدی کردار کی تعریف کی، جسے خطے میں امن کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
دوسਰੀ جانب برازیلی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔
ایئر ہیڈکوارٹرز میں معزز مہمان کو پاک فضائیہ کی جدید کاری کے عمل اور مقامی سطح پر دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے دوران فضائیہ کی پیشہ ورانہ تیاریوں، آپریشنل صلاحیتوں اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے حصول کے حوالے سے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
پاک فضائیہ کے سربراہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خلائی شعبے، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانک وارفیئر جیسی جدید ترین دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر زور دیا۔
برازیلی وفد نے پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور جدید خطوط پر استوار آپریشنل صلاحیتوں کی کھلے دل سے تعریف کی اور اسے قابل تقلید قرار دیا۔
ملاقاتوں کے اختتام پر دونوں برادر ممالک کی عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیشہ ورانہ تبادلوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
ادارہ جاتی روابط کو مضبوط تر بنانے اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو نئی سمت دینے کے لیے آئندہ بھی مسلسل رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔





اپنی رائے دیں