اسلام آباد میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے مسائل میں دہشت گردی کا خاتمہ سر فہرست ہے۔ انہوں نے اس موقع پر خیبر پختونخوا کے امور پر روشنی ڈالی اور صوبے کی انتظامی صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا عزم کر رکھا ہے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس سال کے طویل عرصے کے دوران خیبر پختونخوا کی حکومت کو مختلف مدات میں آٹھ سو ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بھاری مالی تعاون کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانا تھا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس دی گئی رقم کا کوئی باقاعدہ حساب کتاب پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی طرف سے مسلسل مالی امداد کے باوجود صوبائی سطح پر اس کے استعمال سے متعلق شفافیت کا فقدان رہا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ وفاقی حکومت مالی تعاون نہیں کر رہی جو کہ سراسر حقائق کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود اور سکیورٹی کے لیے کھلے دل سے وسائل فراہم کیے۔
وفاقی وزیر کے مطابق وفاقی حکومت نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والا اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی فنڈز جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے اداروں کو جدید آلات اور ساز و سامان کی فراہمی وفاق کی ترجیح رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وفاق کی جانب سے فراہم کردہ یہ تمام فنڈز صوبائی حکومت کے مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی رقوم کی موجودگی کے باوجود دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی پر عملدرآمد میں صوبائی تعاون کی کمی رہی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے سول انتظامیہ کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شورش زدہ علاقوں میں دہشت گرد عام آبادی میں پناہ حاصل کر لیتے ہیں جہاں مقامی اداروں کی مدد ناگزیر ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی سطح پر صوبائی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر طویل مذاکرات کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے ہمیشہ بات چیت کے دروازے کھلے رکھے تاکہ تمام فریقین کو ایک نکتے پر متفق کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ریاست نے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا حتمی عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کٹھن حالات میں حکومت کو کئی بار ناگزیر اور سخت فیصلے کرنا پڑے جو کہ عام حالات میں ترجیح نہیں ہوتے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن قومی مفاد میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی انتظامیہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو اس نوبت تک نوبت نہ آتی۔
وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ امن کے قیام کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک موثر حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلان کے تحت سب سے پہلے متاثرہ علاقوں کو عسکریت پسندوں سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کلیئرنس کے بعد ان تمام علاقوں کا کنٹرول مقامی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں اپنی مستقل رٹ قائم رکھیں گے۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکمت عملی کے تیسرے اور آخری مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران وہاں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور ترقی سے مقامی لوگوں کے حالات زندگی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اپنے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس جامع پلان کے نفاذ سے خطے میں دیرپا اور پائیدار امن کی بنیاد رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن کی مکمل بحالی سے پورے ملک بالخصوص معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
پروگرام کے آخر میں انہوں نے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ملکی سلامتی کے لیے تمام جماعتوں کو ایک پیج پر آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی صرف اور صرف امن کے ساتھ مشروط ہے۔





اپنی رائے دیں