وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں آبادی کا تیز رفتار اضافہ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی بینک کے زیراہتمام منعقدہ ایک اہم گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ اجتماعی اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔
محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب کے دوران اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ رکھنے سے متعلق عوام میں آگاہی کو مزید بڑھایا جائے تاکہ خاندانی صحت کے معیارات بہتر ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حساس اور اہم موضوعات پر معاشرتی بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک بھر کے مذہبی رہنماؤں سے رابطہ کرنا انتہائی اہم اور سودمند ثابت ہوگا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی مجموعی ترقی اور پائیدار خوشحالی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ خواتین کو معیاری تعلیم فراہم کی جائے اور معاشی سرگرمیوں بالخصوص روزگار کے حصول میں ان کی شمولیت میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں قومی آبادی کونسل کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جو ان تمام امور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی، صحت عامہ، بہتر تعلیم اور روزگار کے مواقع کی فراہمی جیسے بنیادی امور سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کو باہم مل کر مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک میں موجودہ افرادی قوت سے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے ہنرمند نسل تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں ملکی سطح پر روزگار کے نئے اور بہترین مواقع پیدا کیے جائیں گے تاکہ بے روزگاری کے خاتمے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ فری لانسنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات نوجوان طبقے کی آمدنی میں اضافے کے لیے انتہائی اہم اور سنہری مواقع فراہم کرتی ہیں۔
ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جدید تکنیکی مہارتوں کے ذریعے پاکستان کی مجموعی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبادی میں اضافے کے اس سنگین چیلنج سے کامیابی سے نبردآزما ہونے کے لیے مسلسل حکومتی توجہ اور درست اعدادو شمار پر مبنی نتائج کا حصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
عالمی بینک کے زیر اہتمام ہونے والی اس گول میز کانفرنس میں ملکی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کانفرنس کے دوران ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے کے لیے افرادی قوت کی بہتر تربیت کرنا ہوگی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ حکومت پاکستان تمام معاشی اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اصلاحاتی عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ملاقاتوں کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے علاقائی نائب صدر سے ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران نجی شعبے کی بھرپور قیادت میں معاشی ترقی کے حصول اور روزگار کے مواقع کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں معاشی استحکام اور ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے فنانس اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مل کر کام جاری رکھا جائے گا۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس قسم کے رابطے ملک میں اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے اور معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے کلیدی سمجھے جاتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے آبادی کے کنٹرول اور معاشی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ملک کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال میں لانا ہے۔ معاشی ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ نوجوان آبادی کو ہنر مند بنا کر پاکستان آنے والے برسوں میں معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔
آئی ایف سی کے حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ ملک میں صنعتی عمل تیز ہو سکے۔
آخر میں وزیر خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کا فروغ اور نوجوانوں کی تربیت موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ملکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں