ملتان میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے بعد مقامی انتظامیہ اور محکمہ لیبر نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ کارروائی کم عمر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ لیبر کی جانب سے ملتان کے مختلف تھانوں میں یہ مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں چائلڈ لیبر ایکٹ کی متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں تاکہ بچوں سے جبری مشقت لینے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
مقدمے کے متن کے مطابق توقیر نامی شخص کے خلاف تھانہ ڈی ایچ اے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ ایک یتیم خانے میں مقیم وسیم عباس نامی کم عمر بچے سے جبری مشقت لے رہا تھا جو کہ قانوناً جرم ہے۔
اسی طرح یتیم خانے کے مالک شعیب کے خلاف بھی تھانہ بی زیڈ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یتیم خانے کے مالک نے وسیم عباس کو ملزم توقیر کے حوالے کیا تھا جس کے بعد بچہ جبری مشقت کا شکار ہوا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ یتیم خانے کے مالک شعیب کو تفتیش کے سلسلے میں پہلے ہی حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس اب اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ اس پورے معاملے میں مزید کون کون سے عناصر ملوث ہیں اور بچے کو کس طرح وہاں سے منتقل کیا گیا۔
محکمہ لیبر کے افسران کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ کسی بھی ادارے یا فرد کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ بچوں کے حقوق کی پامالی کرے یا ان سے جبری مشقت لے۔
مقامی شہریوں نے محکمہ لیبر اور پولیس کی اس بروقت کارروائی کو سراہا ہے۔ سماجی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی بچہ ایسی صورتحال کا شکار نہ ہو۔
قانون کے ماہرین کے مطابق چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت بچوں سے مشقت کروانا ایک ناقابل ضمانت جرم تصور کیا جاتا ہے۔ عدالتوں میں ایسے کیسز کی پیروی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس کیس کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا۔ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔
حکومتِ پنجاب کی جانب سے بھی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے مختلف مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے یتیم خانوں اور دیگر نجی اداروں کی نگرانی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
وسیم عباس نامی بچے کی بازیابی کے بعد اسے محفوظ تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ محکمہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حکام بچے کی دیکھ بھال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ضروری اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اسے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معاشرے میں بچوں کے حقوق کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ لیبر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام نجی اور سرکاری اداروں کو چائلڈ لیبر قوانین کی پاسداری کرنا لازمی ہے۔
پولیس اور محکمہ لیبر کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔





اپنی رائے دیں