عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی اور سپلائی چین میں ممکنہ تعطل کے خدشات ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے خطے کے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی تجارتی مراکز سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں ایک ڈالر اور 21 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 110 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافہ عالمی توانائی مارکیٹ میں ہلچل کا باعث بنا ہے۔
امریکی خام تیل، جسے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کہا جاتا ہے، کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ایک ڈالر سے زائد کے اضافے کے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جو کہ گزشتہ کچھ عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو درپیش سکیورٹی خدشات نے عالمی سپلائی لائن کو متاثر کیا ہے۔ اس راستے سے ہونے والی تیل کی نقل و حمل میں رکاوٹیں پیدا ہونے کے ڈر سے خریداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب میں موجود تیل کی اہم تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے بھی مارکیٹ میں قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ سعودی عرب دنیا میں تیل کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی غیر یقینی صورتحال عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا یہ سلسلہ طویل ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان خارج از امکان نہیں ہے۔ سپلائی میں کمی کا خدشہ قیمتوں کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے۔
عالمی معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کی لہر کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے توانائی کی درآمدی لاگت میں اضافہ ان کی معیشتوں پر اضافی بوجھ ڈالے گا۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتے ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست تجارتی خسارے اور مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ حکومتیں اکثر اس صورتحال میں سبسڈی کے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں۔
عالمی سطح پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے پیداوار کے حوالے سے کیے گئے حالیہ فیصلوں پر بھی مارکیٹ کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سپلائی اور طلب کا توازن قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سرمایہ کار اب عالمی طاقتوں کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور جہاز رانی کے محفوظ راستوں کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا انتظار کر رہے ہیں۔ سفارتی کوششیں ہی اس کشیدگی کو کم کرنے کا واحد راستہ دکھائی دیتی ہیں۔
مستقبل قریب میں تیل کی قیمتوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کس کروٹ بیٹھتی ہے۔ اگر خطے میں حالات معمول پر آ جاتے ہیں تو قیمتوں میں استحکام آنے کی توقع کی جا سکتی ہے، بصورتِ دیگر اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔
بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی پیداوار کی لاگت بڑھانے کا باعث بھی بنتا ہے جو کہ عالمی معاشی ترقی کے لیے ایک چیلنج ہے۔
خلاصہ یہ کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ تاجر اور سرمایہ کار محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں اور ہر نئی پیش رفت کے ساتھ قیمتوں میں ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔





اپنی رائے دیں