وفاقی حکومت نے زرعی شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کراتے ہوئے قومی گندم پالیسی 2026-30 کی منظوری دے دی ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد گندم کی خریداری، ذخیرہ اندوزی اور ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور اسے مرحلہ وار نجی شعبے کے سپرد کرنا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اس پالیسی کے تحت گندم کی خریداری کے نظام میں شفافیت لانے اور ویلیو چین کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ملک میں گندم کی دستیابی ہر وقت برقرار رہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر موجود ہوں۔
پالیسی کے تحت پنجاب اپنی ضروریات کے مطابق 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کا اسٹریٹجک ذخیرہ برقرار رکھنے کا پابند ہوگا۔ دیگر صوبوں اور علاقوں کے لیے بھی ذخائر کی مدت مقرر کر دی گئی ہے، جس کے مطابق پنجاب اور سندھ کو کم از کم 30 دن کی ضرورت کے مساوی گندم ذخیرہ کرنی ہوگی۔
اسی طرح خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے 45 دن جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 60 دن کی ضرورت کے برابر گندم کے ذخائر برقرار رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملک بھر میں گندم کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت کو اب اجازت ناموں اور ذخائر کی دستیابی سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس سے صوبوں کے درمیان گندم کی غیر قانونی نقل و حمل کی روک تھام میں مدد ملے گی اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔
سرکاری سطح پر گندم کی اجرائی قیمت کا تعین متعلقہ صوبائی حکومتیں خود کریں گی۔ تاہم حکومت کو گندم کی خریداری کا پہلا حق حاصل رہے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر سرکاری ذخائر کو مارکیٹ قیمت پر جاری کر کے آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
پالیسی میں نجی شعبے کی شمولیت کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ لائسنس یافتہ فلور ملوں کے لیے گندم کے ذخائر پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے، جس سے نجی شعبے کو اپنی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینے اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھانے کا موقع ملے گا۔
گندم کی خریداری کو مکمل طور پر نجی شعبے کے سپرد کرنے کے لیے ایک واضح ٹائم لائن مقرر کی گئی ہے۔ اس ہدف کے مطابق 2027 میں نجی شعبہ 40 فیصد، 2028 میں 60 فیصد، 2029 میں 80 فیصد اور 2030 تک 100 فیصد خریداری کا عمل سنبھال لے گا۔
اس اصلاحاتی عمل سے سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے جبکہ نجی شعبے کی شمولیت سے گندم کی تجارت میں شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی طویل مدتی بنیادوں پر فوڈ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری کا عمل نجی شعبے کو منتقل کرنے سے کسانوں کو بھی بہتر قیمت ملنے کے امکانات روشن ہوں گے۔ آزادانہ مارکیٹ کے قیام سے گندم کی قیمتوں کا تعین طلب و رسد کے اصولوں کے تحت ہو سکے گا، جس سے صارفین کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسی کے تمام اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے۔ متعلقہ ادارے اس بات کی نگرانی کریں گے کہ نجی شعبہ مقررہ اہداف کے مطابق خریداری کے عمل کو آگے بڑھائے اور ذخیرہ اندوزی جیسے غیر قانونی اقدامات سے گریز کرے۔
اس پالیسی کا نفاذ زرعی معیشت میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ گندم کی خریداری کے روایتی سرکاری نظام میں تبدیلی سے نہ صرف انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے گندم کی پروسیسنگ اور معیار میں بھی بہتری آئے گی۔
مجموعی طور پر قومی گندم پالیسی 2026-30 ملک میں گندم کے بحرانوں کو ختم کرنے اور ایک مستحکم نظام کی تشکیل کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ حکومت نے اس پالیسی کے ذریعے زرعی شعبے کو مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔





اپنی رائے دیں